نائن الیون واقعے میں سعودی عرب کےملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا، سربراہ انکوائری کمیشن

امریکی صدر جوبائیڈن نے حال ہی میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنےکا حکم دیا تھا

مانیٹرنگ ٖڈیسک: نائن الیون انکوائری کمیشن کےسربراہ ٹامس کین کا کہنا ہے امریکا میں پیش آئے واقعات میں سعودی عرب کےملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ طیاروں کے حملے کو روکا جاسکتا تھا۔ خیال رہے کہ سعودی حکومت نے امریکا کے 11 ستمبرکے دہشت گرد حملوں سےمتعلق خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے 11 ستمبر کے معاملے پر ہمیشہ شفافیت پر زوردیا ہے، توقع ہے کہ خفیہ دستاویزات سامنے آنے سے سعودی عرب کے خلاف بے بنیاد الزامات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا طالبان حکومت نائن الیون کے 20 سال مکمل ہونے والے روز حلف اٹھائے گی؟

خیال رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے حال ہی میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنےکا حکم دیا تھا۔ امریکی صدر نے حکومتی تحقیقات کی خفیہ دستاویزات اگلے 6 ماہ میں جاری کرنےکے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

امریکہ میں سانحہ نائن الیون کو 20 برس بیت گئے۔

11 ستمبر 2001 کو 19 دہشت گردوں نے 4 کمرشل طیاروں کو اغوا کیا۔ صبح 8 بجکر 46 منٹ پر دہشت گردوں نے پہلا طیارہ نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں موجود ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت سے ٹکرایا۔

ٹھیک 17 منٹ بعد ایک اور طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرا گیا اور 9 بجکر 37 منٹ پر دہشت گردوں نے پینٹاگون کی عمارت پر طیارہ گرایا۔ دہشت گرد چوتھے طیارے سے مطلوبہ ہدف کو نشانہ نہ بنا سکے اور طیارہ پینسلوانیہ میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 2 ہزار 750، پینٹاگون میں 184 اور پنسلوانیہ میں 40 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ تمام 19 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ 7 اکتوبر 2001 کو القاعدہ سے نان الیون کا بدلہ لینے کے لیے امریکہ نے اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button