تجزیہ: طالبان سے طالبان تک

مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران ہمارے کردار کے باعث پاکستان سے شکایتیں ضرور ہیں مگر وہ پاکستان کو مختلف وجوہات کی بنا پر عزیز بھی رکھتے ہیں

اعزاز سید

جب 30 اگست 2021 کی رات امریکیوں کے مکمل انخلا اور اس کے بعد طالبان کی طرف سے خوشی کے اظہار میں چلائی جانے والی گولیوں کی تڑتڑاہٹ کابل کی فضاؤں میں گونج رہی تھی ہم دنیا کواس بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹس دینے میں مصروف تھے۔

میرے ساتھ ترک ٹی وی کے علی مصطفیٰ اور خیبر ٹی وی کے وقاص شاہ تھے۔ ہم اس بات پر خوشی سے سرشار تھے کہ ہم صرف خبر نہیں بلکہ ایک تاریخ دیکھ اور رپورٹ کررہے ہیں۔ علی۱لصبح بستر پرسونے کے لئے گیا تو آنکھوں میں نیند کی بجائے سوچوں کا ایک سمندرامڈ آیا۔

سوچتا رہا کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے لئے نہ صرف افغانستان کو تہ تیغ کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں 20 سال کے دوران 8 ٹریلین ڈالرز خرچ کرکے افغانستان اور پاکستان سمیت پوری دنیا کے 80 ممالک میں 9 لاکھ افراد کی زندگیوں کے چراغ بھی گل کیے۔ 3 کروڑ80 لاکھ افراد اپنے گھربارچھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ 2 ہزار 55 امریکی فوجی بھی مارے گئے مگر اس سب کے باوجود افغانستان کا انتظام واپس طالبان کے پاس چلا گیا۔ یعنی طالبان سے طالبان تک کے اس سفر کی اتنی بڑی قیمت؟

ادھر پاکستان میں بھی طالبان کی کامیابیوں کی خوشیاں منائی جارہی تھیں۔ کچھ لوگوں کواس بات کا احساس نہیں تھا کہ اب افغانستان میں ایک ایسے دور کا آغاز ہوگا جس میں سب سے زیادہ پابندیاں خواتین کو بھگتنا پڑیں گی اور اہم بات تو یہ کہ پاکستان کے لئے بھی شاید حالات میں کوئی نیا بدلاؤ نہ آئے۔

ہمارا فیس بک پیچ لائیک کیجئے

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کیجئے

مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران ہمارے کردار کے باعث پاکستان سے شکایتیں ضرور ہیں مگر وہ پاکستان کو مختلف وجوہات کی بنا پر عزیز بھی رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان اپنے مفادات کے بھی پکے ہیں۔ اگرکبھی باہم دوستی اور افغانستان کے مفادات کا ٹکراؤ آیا تو وہ افغانستان کے مفادات کے تحفظ کو ہی چنیں گے۔ طالبان کی دوستی اوران کے مفادات کے حوالےسے آپ کو دو واقعات سنانا بہت ضروری ہیں۔ دونوں کے راوی آئی ایس آئی کے ہی تین سابق سربراہ ہیں۔

پہلا واقعہ :

11 ستمبر 2001 کے و اقعات کو بہ مشکل ایک سال ہی گزرا تھا کہ مارچ 2003 میں ملا عمر کے سب سے معتمد ساتھی اور پوری دنیا میں حقانی نیٹ ورک کے بانی کے طور پر پہچانےجانے والے جلال الدین حقانی اسلام آباد پہنچے جہاں ان سے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق کی ملاقات ہوئی۔

آئی ایس آئی کے سربراہ نے بین السطور جلال الدین حقانی کوامریکہ کی طرف سے پاکستان پر دباؤ اور اس کے تحت پاکستان کی مجبوریوں کے بارے میں آگاہ کیا تو جلال الدین حقانی نے کہا کہ’’ آپ ہماری فکر نہ کیجیے ہمیں آپ کے مسائل کا ادراک ہے، آپ اپنے وطن پاکستان کا دھیان کریں کیونکہ ہم اسے بھی اپنا گھر تصورکرتے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کرحقانی چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: طالبان حکومت کو درپیش چیلنجز

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت تک پاکستان طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف سمیت اہم طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر رہا تھا۔ اس ماحول میں بھی جلال الدین حقانی کی طرف سے ایسی بات کرنا حیران کن تھا۔ جلال الدین حقانی جنرل احسان سے ملاقات کے بعد سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل سے ان کے گھر جا کر ملے تھے۔ دونوں کے درمیان 80 کی دہائی سے باہمی شناسائی تھی۔

جنرل حمید گل نے مجھےایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ حقانی کو مشرف حکومت کی طرف سے طالبان کے سربراہ ملا عمر کا ساتھ چھوڑنے کا کہا گیا تھا جب حمید گل نے حقانی سے پوچھا کہ اس کا فیصلہ کیا ہے تو حقانی نے حمید گل سے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ’’ میں ملا عمر کا ساتھ کیسے چھوڑ سکتا ہوں میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے‘‘۔

حمید گل نے اسی شام جلال الدین حقانی کے اعزاز میں ایک عشائیہ بھی رکھا تھا جس میں سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کو بھی مدعو کیا گیا۔ وہی اسلم بیگ جنہوں نے افغانستان میں تزویراتی گہرائی یا ا سٹرٹیجیک ڈیپتھ کا نظریہ متعارف کروایا تھا۔  اس ملاقات میں یہ بات اہم تھی کہ جلال الدین حقانی پاکستان کے مخالف نہیں تھے بلکہ مشکل وقت میں پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھ رہے تھے۔

دوسرا واقعہ :

لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ 1996 میں طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کروانے میں ان کا ایک کلیدی کردار تھا۔ وہ طالبان کے قیام اور عروج و زوال کے عینی شاہدین میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان۔ جشن منائیں یا ماتم کریں؟

انہوں نے ایک حالیہ ملاقات میں مجھے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح پاکستان نے طالبان کی پہلی حکومت کے قیام کے بعد ان کی مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت میجر جنرل صفدر حسین آئی ایس آئی میں ان کے ماتحت تھے جنہیں ملا محمد عمر کے پاس بھیجا گیا کہ ان سے افغانستان اور پاکستان کےدرمیان ڈیورنڈ لائن کے بارے میں امورکو طے کیا جائے۔ ویسے توپاکستان کی طرف سے یہ معاملہ طے تھا مگر افغانستان کی طرف سے اسے غیر ضروری طور پر وقتاًفوقتاً تنازعے کے طورپرپیش کیا جاتا تھا۔

جاوید اشرف قاضی بتاتے ہیں کہ صفدر نے ملا عمر سے اس معاملے پربات کی اور انہوں نے کہا کہ’’ ہم اس معاملے کو دیکھیں گے‘‘۔ وقت گزرگیا لیکن ملا عمر نے ایسا کچھ نہ کیا۔

آج ملاعمر اور جلال الدین حقانی زندہ نہیں بلکہ دونوں کے بچے نئی افغان کابینہ میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ وہ یقینی طور پر پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کے حامی ہیں لیکن ایسا کرنے میں وہ کبھی افغانستان کے مفادات کو داؤ پرنہیں لگائیں گے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان میں امریکی پالیسیوں کے باعث طالبان سے طالبان تک کی واپسی کا سفر تو ہوگیا لیکن ہم پاکستانیوں کوپہلے بھی سمجھ نہیں آئی تھی اوراب بھی صورتحال ایسی ہی ہے اور ہم خوشی سے بے حال ہوئے جارہے ہیں۔

ہمارا انسٹاگرام پیج لائیک کیجئے

ہم سے لنکنڈ ان کے ذریعے جڑئیے

بشکریہ روزنامہ جنگ

دی انڈس ٹریبیون کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو یا انگریزی میں بلاگ، آرٹیکل، سفرنامہ وغیرہ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ Theindustribune@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button