طالبان حکومت کو درپیش چیلنجز

طالبان کے 20سال جنگ میں گزرے ہیں جبکہ حکمرانی کے لئے ابھی ان کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ ظاہر ہے جنگ اور حکمرانی دو الگ الگ کام ہیں

سلیم صافی

امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا اور پورے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد صورتِ حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ امریکہ کا امتحان ختم اور طالبان کا شروع ہوچکا ہے۔ 

گزرےکل تک افغانستان میں استحکام لانا، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور شہریوں کے لئے روٹی، کپڑے ،مکان، تعلیم اور صحت کا انتظام کرنا امریکہ یا اشرف غنی حکومت کی ذمہ داری تھی جبکہ عدم استحکام پیدا کرنے کی نسبتاًآسان ذمہ داری طالبان اور ان سے ہمدردی رکھنے والے ملکوں کی تھی۔

موجودہ تبدیل شدہ حالات میں سیاسی استحکام قائم کرنا، ملک میں امن و امان بحال کرنا اور شہریوں کے لئے روٹی، کپڑے، مکان، صحت اور تعلیم کا انتظام کرنے کا مشکل کام طالبان اور ان کے ہمدرد ممالک کی ذمہ داری بن گئی ہے۔

طالبان ڈسپلن اور قربانی کے جذبے کی وجہ سے اشرف غنی حکومت سے بہت آگے ہیں۔ ان کی صفوں میں اتنی کرپشن نہیں جتنی سابق حکومت کے دوران ہورہی تھی۔ اس حوالے سے طالبان کا پلڑا بہت بھاری ہے لیکن انہیں اب بھی ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ہمارا فیس بک پیچ لائیک کیجئے

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کیجئے

طالبان کے 20سال جنگ میں گزرے ہیں جبکہ حکمرانی کے لئے ابھی ان کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ ظاہر ہے جنگ اور حکمرانی دو الگ الگ کام ہیں۔

طالبان کے سامنے پہلا چیلنج تو حکومت سازی کا ہے اوراس ضمن میں انہیں پہلی فرصت میں داخلی اختلافات پر قابو پانا ہوگا، جن کے باعث حکومت سازی میں تاخیر ہورہی ہے۔

یوں تو سب طالبان ملا ہیبت اللہ کی قیادت پر متفق ہیں لیکن ایک غیرمرئی تقسیم سیاسی اور نظامی (عسکری) موجود ہے۔ بعض طالبان رہنما سیاسی محاذ پر بہت اہم ہیں لیکن جنگی میدان میں ان کی حیثیت قابلِ ذکر نہیں جبکہ بعض لوگ جنگی محاذ پر کلیدی حیثیت کے حامل تھے لیکن سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ان کے نام زیادہ نمایاں نہیں۔

چنانچہ ایک بڑا چیلنج ان دو قسم کے چہروں کو ایک ہی حکومت میں سمونا اور مطمئن کرنا ہے۔ اسی طرح ایک چیلنج یہ درپیش ہے کہ افغانستان کے جنوب، مشرق اور شمال کے درمیان توازن کیسے لایا جائے۔ طالبان کی زیادہ تر قیادت کا تعلق قندھار (جسے پشتو میں لوئے قندھار کہتے ہیں جس سے مراد صرف قندھار صوبہ نہیں بلکہ اس سے متصل جنوب مشرق کے تمام صوبے ہیں) سے ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اشرف غنی اور عمران خان

دوسری طرف سراج الدین حقانی اور ان کے نیٹ ورک کا مزاحمت میں کلیدی کردار رہا اور وہ بڑے پکتیا (جسے پشتو میں لویا پکتیا کہتے ہیں اور اس سے مراد پکتیا اور اس سے متصل مشرقی صوبے ہیں) کی قیادت کررہے ہیں۔

کابل شہر کا کنٹرول بھی ابتدا میں سراج الدین حقانی کی بدری فورس (بدری فورس جنگ میں جان کی قربانی دینے والے ان کے بھائی بدرالدین حقانی کے نام سے منسوب ہے)نے سنبھالا۔ چنانچہ ایک بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ پکتیا اور قندھار کے درمیان توازن کیسے لایا جائے۔

حکومت سازی کے معاملے میں ایک اور بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ صرف مغرب نہیں بلکہ پاکستان، ایران، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس کا بھی مطالبہ یہ ہے کہ انکلوسیو (سب پر مشتمل جامع) حکومت بنائی جائے جس میں تاجک، ازبک، ہزارہ، خواتین اور سابق حکومت کے اہم لوگوں کو بھی نمائندگی دی جائے لیکن طالبان کی صفوں میں موجود ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم ان لوگوں کو اپنے ساتھ حکومت میں کیوں بٹھائیں جن سے 20سال لڑے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ حامد کرزئی، گلبدین حکمتیار اور عبداللہ عبداللہ جیسے لوگ اب چھوٹے عہدے نہیں لےسکتے جبکہ بڑے عہدے ان کو طالبان دے نہیں سکتے۔ ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اب طالبان کی صفوں میں ایران کے اپنے فیورٹس ہیں، پاکستان کے اپنے فیورٹس ہیں، روس کے اپنے، تاجکستان کے اپنے، قطر کے اپنے جبکہ بعض کو تو امریکیوں نے بھی اپنے قریب کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: طالبان کی فتح اور ہماری غلطیاں

ایک کے فیورٹ کو اہم عہدہ ملتا ہے تو دوسرے ملک کو اعتراض ہوتا ہے اور دوسرے کو ملتا ہے تو پہلے کو اعتراض ہے ۔ جبکہ اس مرحلے پر کسی بھی پڑوسی ملک کو ناراض کرنا طالبان کے لئے خطرے سے خالی نہیں۔

ایک اور چیلنج یہ درپیش ہے کہ طالبان کے کئی رہنما جن میں عبدالقیوم ذاکر اور سراج الدین حقانی جیسے لوگ شامل ہیں، اب بھی امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ طالبان کے یہ درجنوں رہنما امریکہ کی ایما کے بغیر بلیک لسٹ سے نہیں نکل سکتے۔ امریکہ نے ابھی سے افغانستان کے 9ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔

اب طالبان اگر امریکہ کے مطالبات تسلیم کرتے ہیں تو ان کے جنگی لوگوں کے لئے وہ قابلِ قبول نہیں جبکہ ان کے بعض مطالبات چین، روس، ایران اور شاید پاکستان کے مفادات کے بھی خلاف ہوں گے لیکن اگر نہیں کرتے تو ان کی حکومت کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقتصادی حوالے سے کسی حد تک امریکہ کے متبادل چین، روس، ایران اور پاکستان ہو سکتے ہیں لیکن یہ سب ممالک بھی غیرمشروط طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کا معاشی بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان۔ جشن منائیں یا ماتم کریں؟

چین کا مطالبہ ہے کہ طالبان پہلی فرصت میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کا صفایا کرے۔ روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کا مطالبہ ہے کہ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، داعش اور منشیات کا صفایا کیا جائے۔ پاکستان ٹی ٹی پی کے بارے میں یہ مطالبہ کررہا ہے جبکہ ایران کے مطالبات اور توقعات شیعہ کمیونٹی سے متعلق ہیں۔

دوسری طرف طالبان چاہیں بھی تو فوری طور پر ان تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے۔ وہ یہ وعدہ کررہے ہیں کہ اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں کریں گے لیکن پڑوسی ممالک اپنے اپنے دشمنوں کے حوالے سے جلدی میں ہیں۔

صورت حال اب یہ ہے کہ طالبان نہ تو پاکستان کو نظرانداز کرسکتے ہیں، نہ ایران کو ، نہ چین کو اور نہ روس یا وسط ایشیائی ریاستوں کو لیکن دوسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف اس مرحلے پر طاقت کا استعمال کیسے کریں جو اس 20سالہ جنگ میں ان کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔

ایک اور چیلنج یہ درپیش ہے کہ گزشتہ 20برسوں میں افغان سوسائٹی کافی بدل گئی ہے۔ امریکی اپنے ساتھ جو کھربوں ڈالر لائے تھے، اس میں سے زیادہ حصہ جنگ پر خرچ ہوا یا کرپشن کی نذر ہوا لیکن اس کے باوجود عام آدمی تک وہ پیسہ کسی نہ کسی شکل میں منتقل ہوا۔ افغانستان کے شہروں میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں۔

ہمارا انسٹاگرام پیج لائیک کیجئے

ہم سے لنکنڈ ان کے ذریعے جڑئیے

ہر ملٹی نیشنل فوڈ چین کی برانچ کابل میں موجود تھی۔ جیسے بھی تھے لیکن افغان شہری اور بالخصوص بڑے شہروں کےباسی معاشی لحاظ سے خوشحال زندگی کے عادی ہو گئے تھے۔

دوسری طرف موبائل فون، ٹی وی چینلز اور مغربی دنیا کے ساتھ ربط ضبط کی وجہ سے نئی افغان نسل معاشرتی حوالوں سے بھی یکسر بدل گئی ہے۔ طالبان اس نئی نسل کو اپنے معاشرتی ڈھانچے میں شامل کرتے ہیں تو وہ ملک سے بھاگیں گے یا پھر کسی نہ کسی مرحلے پر بغاوت کا راستہ اپنائیں گے لیکن اگر اپنی پالیسیوں کو ان کے اور عالمی برادری کے سانچے میں ڈھالتے ہیں تو ان کی صفوں میں بغاوت کا خطرہ ہے۔

چنانچہ ان دو انتہاؤں کے درمیان توازن قائم کرنا اور دونوں فریقوں کو مطمئن کرنا بھی طالبان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

دی انڈس ٹریبیون کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو یا انگریزی میں بلاگ، آرٹیکل، سفرنامہ وغیرہ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ Theindustribune@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button