ریختہ روزن: اردو کی ادبی صحافت میں ایک روشن باب کا اضافہ

’ریختہ روزن‘ کا پہلا شمارہ (جولائی تا ستمبر) شائع ہوکر منظر عام پر آگیا ہے۔ یہ شمارہ قدیم و جدید ادب کی بہترین تحریروں سے مزین ہے

پریس ریلیز

اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ادارے ریختہ فاؤنڈیشن نے ’ریختہ روزن‘ کے نام سے ایک ادبی رسالے کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

’ریختہ روزن‘ سہ ماہی رسالہ ہے جس کا آغاز اردو اور دیوناگری رسم الخط میں اردو کے اہم ترین ادبی سرمایے کو از سرنو قارئین کی دست رس میں لانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

ریختہ فاؤنڈیشن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اردو کے اچھے ادب کو ہر ممکن ذریعے سے قارئین تک پہنچایا جاسکے۔ چاہے وہ ریختہ ویب سائٹ کے ڈیجیٹل صفحات ہوں یا پھر ملک و بیرون ملک میں برپا کی جانے والی ادبی و ثقافتی تقریبات۔ یا پھر ’ریختہ بکس‘ کی اردو و دیوناگری رسم الخط میں شائع ہونے والی کتابیں، ان سب کا مقصد اردو کے ادبی و تخلیقی سرمایے کو آسانی کے ساتھ قارئین تک پہنچانا ہے۔ ’ریختہ روزن‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

’ریختہ روزن‘ کا پہلا شمارہ (جولائی تا ستمبر) شائع ہوکر منظر عام پر آگیا ہے۔ یہ شمارہ قدیم و جدید ادب کی بہترین تحریروں سے مزین ہے۔ ہند و پاک سے شائع ہونے والے سیکڑوں ادبی رسائل کے بیچ اس رسالے کی اشاعت کا سبب بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعے اس بے مثال ادبی سرمائے کی بازیافت کی جاسکے جو کسی نہ کسی وجہ سے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی نیے لکھنے والوں کو بھی نسبتا ایک بہتر جگہ فراہم کی جاسکے۔

سہ ماہی ’ریختہ روزن‘ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ رسالہ اردو رسم الخط کے ساتھ دیوناگری رسم الخط میں بھی شائع ہوا ہے۔ اب وہ قارئین جن کے لیے اردو رسم الخط سے ناواقفیت کے سبب اردو کے معاصر اور پرانے ادب کو پڑھا ممکن نہیں ہوتا تھا آسانی کے ساتھ ایک ہی جگہ پر اردو کے نیے پرانے ادب سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

’ریختہ روزن‘ معروف ترقی پسند ادیب و شاعر خلیل الرحمن اعظمی کی صاحبزادی ہماخلیل کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے۔ ہما خلیل معروف ادیبہ، مصنف اور ترجمہ نگار ہیں۔ ’ریختہ روزن‘ کے لیے یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ اسے ابتدا ہی سے اردو کی اہم ادبی شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ، ذکیہ مشہدی اور سید شاہد مہدی کی سرپرستی میں اس رسالے نے اپنا سفر شروع کیا ہے۔

رسالے کی ضروت اور اس کی اہمیت کو نشان زد کرتے ہوئے رسالے کی ایڈٹر ہماخلیل بتاتی ہیں، ’’ریختہ فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی وجہ سے اردو شاعری اور ادب کی طرف لاکھوں لوگوں کے تیزی سے بڑھتے رجحان اور حیرت انگیز ذوق و شوق کے پیش نظر ہمیں ایک ایسے رسالہ کی ضرورت کا شدت سے احساس ہوا جو اردو اور دیوناگری دونوں رسم الخط میں شائع ہو اور جس میں اردو کا بے مثال نیا پرانا ادب پیش کیا جاسکے۔

اردو میں بے شمار ایسی نایاب تحریریں، افسانے، مضامین اور شاعری ہے جو پرانے رسالوں اور کتابوں میں مدفون ہے، ان تک ایک عام قاری کی رسائی نہیں ہوپاتی، لیکن وہ بہت شاندار اور اعلی پائے کا ادب ہے۔ اس رسالے کے ذریعے ہم اسی خزانے کی بازیافت کریں گے اور ساتھ ہی نیے لکھنے والوں کو بھی ایک بہتر جگہ فراہم کریں گے۔‘‘

’ریختہ روزن‘ کے پہلے شمارہ کا اردو کے ادبی حلقوں میں پرجوش استقبال کیا گیا ہے۔ قارئین نے اس کے مشمولات کو پسند کیا۔ ’ریختہ روزن‘ ریختہ بکس ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button