کیا مینڈک کی مختلف نسلیں ناپید ہورہی ہیں؟

تحقیق کے مطابق، مینڈکوں کی 26 اقسام 2040 تک دنیا سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی، جبکہ ان میں سے 4 پہلے ہی ناپید ہو چکی ہیں

ویب ڈیسک: آسٹریلیا میں ماہرین نے مختلف بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلوں کے باعث مینڈک کی مختلف نسل کو ناپید ہونے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپوٹ کے مطابق آسٹریلیا میں کئی جانوروں سمیت مینڈکوں کو بھی چند سالوں میں شدید خطرات لاحق ہیں جن کے بارے میں جلد حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

تحقیق کے مطابق سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے آسٹریلوی حکام کو اس بات سے خبردار کیا ہے کہ مینڈکوں کی 26 اقسام 2040 تک دنیا سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی، جبکہ ان میں سے 4 پہلے ہی ناپید ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کیا واقعی سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کو روکا جاسکتا ہے؟

مصنف ڈاکٹر گریم گلیپسی کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے شمالی علاقہ کے محکمہ ماحلویات، نے سالوں کے مطالعے کے بعد انتظامیہ کو ختم ہونے والی اقسام کی نشاندہی کی ہے۔

ڈاکٹر گلیسپی نے نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مینڈک جلد ہی آسٹریلیا کے رینگنے والے جانوروں، ممالیہ جانوروں ، پرندوں اور پودوں کی کئی اقسام کی طرح معدوم ہو سکتے ہیں جس سے دنیا کے دیگر عوامل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ڈاکٹر گلیسپی کے مطابق ان مینڈک میں جلد کی بیماری کے ساتھ chytridiomycosis نامی بیماری بڑھ رہی ہے، جس وجہ سے پہلے 4 پرجاتیاوں کا نام و نشان تک نہیں مل رہا۔

تاہم ان نئی اقسام کے لیے بیماری کے ساتھ تیزی سے بدلتی موسمیاتی تبدیلیاں بھی خطرے کا سبب بن رہی ہیں، جنہیں محفوظ کرنے کے لیے جلد سے جلد اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button