اور اب کپتان بابر اعظم نے بھی ٹیم سلیکشن پر سوال اٹھادیے

کپتان کو اعظم خان اور صہیب مقصود کی ٹیم میں شمولیت کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا

ویب ڈیسک: قومی کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لئے سلیکشن کا معاملہ تنازعے کا شکار ہوچکا ہے۔ 

خبریں آرہی ہیں کہ اب قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم بھی ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کیلئے منتخب کیے گئے قومی اسکواڈ سے مطمئن نہیں ہیں۔

اس سے قبل ہیڈ کوچ کے عہدے سے دستبردار ہونے والے مصباح الحق نے بھی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کی تشکیل میں مشاورت نہ کرنے پر پی سی بی سے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے انتخاب سے خوش نہیں ہیں، کپتان کو اعظم خان اور صہیب مقصود کی ٹیم میں شمولیت کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان، بابر کپتان مقرر، سرفراز ڈراپ

ذرائع کے مطابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے متوقع چیئرمین رمیز راجہ سے مشاورت کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرلیا جبکہ بابر اعظم فہیم اشرف اور فخر زمان کو اسکواڈ میں شامل کرنے کے حامی تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی سلیکشن کے حوالے سے بابر اعظم نے رمیز راجہ کو دو مرتبہ فون کیا، رمیز راجہ نے کپتان کی بات ضرور سنی لیکن انہیں پیغام دیا گیا کہ زیادہ فوکس کھیل پر رکھیں، کھلاڑیوں کو ان آؤٹ کروانے پر توجہ کم کریں۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کے عہدوں سے مستعفی ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق مصباح الحق کی آج پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے ملاقات ہوئی جس میں وسیم خان نے مصباح الحق کو نیوزی لینڈ سیریز میں آرام لینے کا کہا جب کہ اس دوران مصباح اور وسیم خان کے درمیان بحث بھی ہوئی۔

اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار ہوگئے تھے، جن کی جگہ اب ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق نیوزی لینڈ کیخلاف ہوم سیریز میں بحیثیت عبوری کوچز ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی کرکٹ شائقین کیلئے اچھی خبر، نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان منظور ہوگیا

مصباح الحق اور وقار یونس کو ستمبر 2019 میں قومی کرکٹ ٹیم کا بالترتیب ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ جمیکا میں قرنطینہ کے دوران اپنے 24 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا، جانتا ہوں یہ آئیڈیل وقت نہیں مگر فی الحال ایسے فریم آف مائنڈ میں نہیں کہ آئندہ چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکوں۔

مصباح الحق نے کہا کہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔

دوسری جانب وقار یونس نے کہا کہ مصباح الحق نے اپنا فیصلہ بتایا تو میں نے بھی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا، پاکستان کے نوجوان بولرز کے ساتھ کام کرنے پر بہت مطمئن ہوں۔

اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ پی سی بی مصباح الحق کے فیصلے کا احترام کرتا ہے، گزشتہ 24 ماہ میں مصباح الحق نے اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کرکٹ کے لیے خرچ کیں، وقار یونس نے بھی جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔

وسیم خان نے کہا کہ ہم نے ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق کو عبوری کوچز کی حیثیت سے نیوزی لینڈ سیریز کے لیے تعینات کیا ہے، آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کے لیے ٹیم منیجمنٹ کا اعلان مناسب وقت پر کردیا جائے گا۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button