افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط بیسویں

اس نے بھی جواب میں کہا تھا، نہیں بھائی ہم ہندو نہیں ہیں، ہمارا اپنا دہرم سندھی ہے اور ہماری زبان بھی سندھی ہے، ہندو تو سندھو سے جنما ہے، ہم ہندو نہیں ہیں بلکہ ہندو ہم سے ہے

طارق کھجڑ

رات کو جاوید کے ساتھ گاڑی میں ماڈرن ایوینیو روڈ پر آگیا جہاں انڈین تندوری گرل کڑیز کے نام سے ایک انڈین ریسٹورنٹ تھا، کچھ دیر بعد تشار بھی آگیا، وہ گھنگھریالے بال، سانولی رنگت، بھاری جسامت اور درمیانے قد کا جوان تھا، تامل ایکٹرز کی طرح اس کے سر پر بالوں کا ایک جھمگھٹا سا بنا ہوا تھا اور اس کی نوکدار موچھیں تھیں، جہاں بار بار اس کی انگلیاں جارہیں تھیں۔ ریسٹورنٹ میں دو تین ڈائننگ ھال تھے، ہم اس ھال میں بیٹھ گئے جہاں شور قدرے کم تھا۔

کھانے کے دوران وہ اپنے بارے میں بتانے لگا کہ وہ انگریزی میں بات کر رہے تھا مگر اس کی انگریزی اور لہجہ دیسی اسٹائل کا تھا، اس لئے میں نے اردو میں بات کرنے کی کوشش کی مگر جواب اس نے انگریزی میں ہی دیا۔ مجھے اس کی انگریزی سے مجھے کوفت ہو رہی تھی۔ اس کی شخصیت میں غرور کا عنصر جھلک رہا تھا، شاید وہ مجھ سے پاکستانی ہونے کی بنا پر اس طرح کا رویہ رکھ رہا تھا۔ کھانے کے دوران وہ کہنے لگا، ہم کام میں کافی مصروف ہوتے ہیں میڈم کی وجہ سے آپ کو پروٹوکول دے رہے ہیں۔

اس کی اس بات پر مجھے غصہ تو بہت آیا مگر میں نے ہنس کر کہا کہ آپ مصروف لوگ ہیں، یار اپنا کام کرو، میں خود اپنے کام منیج کرلوں گا آپ زحمت نہ کریں، میری بات پر وہ شرمندہ ہوا اور بات بدل کر کہنے لگا، کیوں نہ ہم بزنس پارٹنر بن جائیں، مل کر کاروبار کا سوچیں، آپ کی کمپنی کی پروڈکٹس کانگو میں ہم مارکیٹ کرتے ہیں اور اس کے طریقکار پر ہم کوئی میٹنگ کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگو میں چینی کی بہت ڈمانڈ ہے جو باہر سے امپورٹ ہوتی ہے، اگر ہمیں پاکستان سے کوئی سپلائر مل جائے تو بہت پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔

ہمارا فیس بک پیچ لائیک کیجئے

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کیجئے

میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ان سے کوئی مدد نہیں لینی ہے، نہ ہی ان کے ساتھ کوئی کام کرنا ہے۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ کل سے اپنے کام خود ہی کروں گا۔ ڈنر کے بعد جب وہ مجھے ہوٹل ڈراپ کرنے آئے اور مجھ سے کل کا پلان پوچھنے لگے، تب میں نے کہا کہ میں نے کام تو سارے آج ہی کر دیے تھے، کل یہاں ایک پاکستانی دوست سے ملنا ہے، اسی کے ساتھ مارکیٹ آجائوں گا اور وہیں سے فارغ ہوکر فون کر دوں گا، جس پر انہوں نے بہت کہا کہ ہم آپ کو لے جائیں گے۔ مگر میں نے خود اکیلے جانے پر اسرار کیا۔

اگلے دن میں خود مارکیٹ نکل آیا، راستے میں بلال کو فون کیا کہ کچھ ڈیسٹری بیوٹر کے ریفرینسس چاہیئں۔ جس پر اس نے بتایا کہ وہ ایک ڈسٹری بیوٹر کے پاس اکائونٹنٹ کا کام کرتا ہے۔ دوپہر کو اس کے ساتھ ٹائم رکھ لیتا ہوں، ہم اس سے مل کر پھر کچھ اور ایجنٹس سے بھی مل لیں گے۔

اس کے ساتھ دوپہر کا ٹائم فکس ہوا اور میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو ابھی میرے پاس کافی وقت تھا، اس لیئے میں آوارہ گردی کرنے نکل آیا، کافی دیر تک راستوں پر بنا کسی مقصد کے گھومتا رہا، لوگوں کے چہرے پڑہتا رہا، پھر ایک بار میں گھس گیا، اس خیال کے ساتھ کہ ابھی ٹائیم ہے کیوں نہ ساگر سے پرانی دوستی کو نبھایا جائے۔ میں بار کی طرف چل دیا، یہ ایک فرینچ بار تھی جس پر گوری میم ساقی بنی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط انیسویں

میں نے ساقی کو بیئر لانے کے لیے کہا، جس پر اس نے برانڈ پوچھا، میں نے کہا کون سا اچھا برانڈ جسے آپ ریکمنڈ کریں گی۔جس کے بعد اس نے نام گنوانا شروع کر دیئے۔ تمام معلومات سننے کے بعد میں نے کہا جوٓ آپ کو پسند ہو وہ لے آئیے۔

فرینچ لیڈی مسکراتے ہوئے اپنے پسند کے برانڈ کا بیئر گلاس میں انڈیلنے لگی، ساتھ ہی ساتھ اس نے کائونٹر کے ساتھ رکھے اسٹول پر بیٹھنے کو کہا اور ٹشو سے ایش ٹرے کو صاف کرتے ہوئے میرے سامنے رکھ دیا، یہ دن کا وقت تھا، اس لیئے بار میں کم لوگ دکھائی دے رہے تھے۔

کچھ دیر میں فرینچ ساقی نے بیئر سے بھرا ہوا گلاس میرے سامنے رکھ دیا، جس میں بھری ہوئی بیئر کی سفید جھاگ گلاس سے باہر کسی ہونٹ سے ٹکرانے، گلے سے اندر اترنے اور اپنا اثر دکھانے کو بیتاب ہورہی تھی۔

اس لڑکی کو دیکھ کر مجھے شاہ لطیف کے رسالے میں موجود موکھی کا کردار یاد آگیا۔ تاریخ کی کتابیں بتاتیں ہیں کہ سندہ کے ساحلوں ٹھٹھہ، بدین اور کلاچی کے بندروں پر بھی کبھی بار ہوا کرتے تھے، جہاں دنیا بھر سے جہاز بندر پر آکر لنگرانداز ہوتے، تجار اپنا کاروبار کرتے، سرائوں میں ٹھہرتے اور ساحلوں پر ہی بنے مے خانوں پہ مے کشی کرتے جس کا ذکر شاہ لطیف نے بھی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط اٹھارویں

اس میں سب سے مشہور مے خانا (بار) موکھی کا تھا، جس کے چرچے دور دور تک پہیلے ہوئے تھے، ساحلوں پر آنے والا ہر مسافر موکھی کی شراب پینے ضرور آتا تھا جسے وہ خود بناتی تھی۔

ایک دفعہ کچھ دوست موکھی کے مے خانے میں آئے اور موکھی سے شراب لانے کو کہا۔

موکھی نے ان کو شراب پیش کی جو پی کر وہ چلے گئے، ایک سال کے بعد وہ واپس آئے اور موکھی سے تقاضا کیا کہ ہمیں وہی شراب پینی ہے جو پچھلے سال تم نے پلائی تھی۔ تمہارے اس شراب کا نشہ سارا سال طاری رہا ہے۔ ہمیں وہی مے پینی ہے۔

جس پر موکھی نے ان کو بتایا کہ وہ تو میں آپ کو پیش نہیں کر سکتی کیونکہ پچھلے سال جو شراب آپ کو دی تھی، بعد میں اس مٹکے سے زہریلا سانپ برآمد ہوا تھا، مجھے لگا آپ بھی اس کے زہر سے مر گئے ہونگے،جس پر مورخ کہتے ہیں وہ لوگ یہ بات سن کر وہیں پر مرگئے، کتابوں میں انہیں متارا کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط سترویں

اب یہ کہیں واضع نہیں ہے کہ وہ کیوں مرے۔ کیا وہ اس صدمے سے مرے کہ اب انہیں وہ شراب کبھی نہ مل سکے گی جس کا نشہ سارا سال ان پر رہا یا اس خوف سے کہ انہوں نے سانپ والی زہریلی شراب پی تھی۔

اس کے علاوہ ایک بہت بڑی بات یہ ہے کہ آج سے کئی سو سال پہلے سندہ میں ایک عورت موکھی بار (مے خانہ) چلاتی تھی جو آج کے اس جدید دور میں بھی سندہ کے اندر قطعی ممکن نہیں۔افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط بیسویں

اسی دوران بلال کا فون آیا جس پر میں نے اسے بار کے بارے میں بتایا، جس کے بعد وہ یہیں پر آگیا۔ وہ کچھ ڈسٹریبیوٹرز کے بارے میں بتانے لگا اور کہنے لگا کہ ان میں سے ایک ڈسٹریبیوٹر سندھی ہے۔ میں نے یہ بات سن کر حیرانگی کا اظہار کیا کہ سندھی کہاں سے آگئے کانگو میں، کیا ہندو سندھی ہے۔

وہ کہنے لگا نہیں بھائی وہ ہندو نہیں ہے، وہ سندھی ہے، میں ان کے پاس اکائونٹنٹ تھا تو وہ خود کو ہندو نہیں مانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ جس طرح مسلمان یا ہندو ہوتے ہیں، اسی طرح سندھی بھی ایک رلیجن ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط سولھویں

میں نے ہنس کر کہا یار سندھی تو ایک قوم ہے، جس میں مسلمان اور ہندو اور سکھ سبھی ہوتے ہیں، مسلمان سندھی زیادہ تر پاکستان میں رہتے ہیں جبکہ ہندو اور سکھ سندھی زیادہ تر انڈیا میں رہتے ہیں۔

جس پر بلال کہنے لگے ارے نہیں نہیں، یہ پاکستان والے سندھی نہیں ہیں، یہ دوسرے ہیں، یہ انڈیا کے ہیں اور ان کا مذہب سندھی ہے۔ بلال کی بات مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی، میں نے کہا چھوڑو اس بات کو،بات کو وہیں سے شروع کرتے ہیں، جہاں سے منقطع ہوئی تھی۔

بعد جب ہم اس ڈسٹریبیوٹر سے ملنے گئے تو اس نے بتایا کہ اس کا نام پرکاش ہے، اس نے بتایا کہ اس کے دادا رتو ڈیرو سندہ سے ھجرت کرکے افریقہ آئے تھے، جہاں سے وہ لوگ کانگو آئے اور یہیں پر چالیس سال سے آباد ہیں۔

وہ اس وقت اپنے کمپیوٹر پر پاکستان کی خبریں کھول کر بیٹھا ہوا تھا، جہاں وہ سندہ کی خبریں تلاش کر رہا تھا۔ جو اس نے مجھے دکھاتے ہوئے بتایا۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط پندرھویں

میں نے پرکاش سے پوچھا کیا آپ ہندو سندھی ہیں۔

جس پر اس نے جواب میں کہا کہ نہیں وہ ہندو نہیں صرف سندھی ہیں، ہمارا اپنا سندھی مذہب ہے، جئے جھولے لال۔
جس پر میں دل میں ہنس پڑا اور سوچنے لگا کہ سندھی کب سے مذہب بن گیا۔ اس کے کئی سالوں بعد برما میں ہوٹل میں رہتے ہوئے ایک انڈین سے دوستی ہوئی۔ ایک دن اس کا فون آیا، کہنے لگا کہ یار میرا انڈیا سے ایک سندھی دوست آیا ہے۔ وہ بہت بڑا صنعتکار ہے، انڈیا کے امیر لوگوں میں جانا جاتا ہے۔ ہم لابی میں بیٹھا ہے تم آجائو، بیئر پیتے ہیں اور وہ تیری طرح سندھی ہے۔ تم آو تو اس سے ملواتا ہوں۔

جب اس سے ملا تھا تو میں نے اس سے بھی وہی سوال کیا تھا کہ وہ ہندو سندھی ہے۔ جس پر اس نے بھی جواب میں کہا تھا، نہیں بھائی ہم ہندو نہیں ہیں، ہمارا اپنا دہرم سندھی ہے اور ہماری زبان بھی سندھی ہے، ہندو تو سندھو سے جنما ہے، ہم ہندو نہیں ہیں بلکہ ہندو ہم سے ہے۔

اس وقت کتابوں میں پڑھی یہ بات یاد آگئی کہ دریائے سندہ کو سندھو کہا جاتا تھا اور لفظ سندھو سے ہی ہندو وجود میں آیا تھا۔

ہمارا انسٹاگرام پیج لائیک کیجئے

ہم سے لنکنڈ ان کے ذریعے جڑئیے

جاری ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو یا انگریزی میں بلاگ، آرٹیکل، سفرنامہ وغیرہ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ Theindustribune@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button