پینے کے پانی کے حوالے سے چشم کشا انکشافات، 62 فیصد پانی مضر صحت قرار

رپورٹ نے سندہ کے سات شہروں میں 85 فیصد پانی انسانی استعمال کیلئے نقصادہ قرار دے دیا

سلمان احمد

اسلام آباد: کراچی سمیت 29 بڑے شہروں میں لاکھوں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ رہی ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کے نتائج کے مطابق 29 بڑے شہروں میں پینے کے پانی کا معیار خطرناک حد تک غیر محفوظ ہے۔

"مجموعی طور پر ان [29] بڑے شہروں میں پینے کے پانی کا 62 فیصد معیار غیر محفوظ ہے۔ ان شہروں کا زیر زمین پانی گندگی، سختی، کلورائیڈ ، ٹی ڈی ایس ، بیکٹیریل اور دیگر کیمیکلز سے بھرا ہوا ہے۔” اس ماہ کے شروع میں پارلیمنٹ میں بھی یہ رپورٹ پیش کی گئی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے دو اضلاع میں 100 فیصد پینے کے پانی کا معیار غیر محفوظ ہے۔ ان اضلاع میں میرپورخاص اور شہید بے نظیر آباد شامل ہیں۔ گلگت بلتستان کے ضلع میں پینے کا پانی 100 فیصد غیر محفوظ ہے جو کہ گندگی ، سختی ، کلورائیڈ ، ٹی ڈی ایس اور جراثیم سے بھرا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق محفوظ سطح سے باہر آرسینک کا طویل مدتی استعمال صحت کے مختلف مضمرات کا سبب بن سکتا ہے-غیر نامیاتی آرسینک کی اعلی سطح تک طویل مدتی استعمال بالآخر جلد کا کینسر پیدا کر رہی ہیں ،”۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں 29 بڑے شہروں کا 62 فیصد پانی غیر صحت بخش قرار

رپورٹ میں ملک کے دیگر 28 شہروں میں پانی کے معیار میں جراثیمی آلودگی کے پھیلاؤ کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانی میں 39 فیصد بیکٹیریل کنٹامنیشن، 8 فیصد آرسینک ، نائٹریٹ 4 فیصد ، فلورائیڈ 4 فیصد وغیرہ شامل ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ضلع دادو کے پانی کے معیار کی مانیٹرنگ میں انکشاف ہوا ہے کہ پانی کے 112 میں سے 91 (89 فیصد) پانی کے ذرائع بنیادی طور پر بیکٹیریل آلودگی کی وجہ سےپینے کے مقاصد کے لیے غیر محفوظ تھے۔

سرکاری نتائج کے مطابق کراچی میں پینے کا 93 فیصد پانی آلودہ ہے جو کہ گندگی ، سختی ، کلورائیڈ ، ٹی ڈی ایس ، فلورائیڈ اور بیکٹیریا سے بھرا ہوا ہے۔

ملتان شہر میں پینے کا 94 فیصد پانی غیر محفوظ ہے جو کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حلقے میں آتا ہے، بدین میں 92 فیصد پانی غیر محفوظ ، سرگودھا میں 83 فیصد اور حیدرآباد میں 80 فیصد پانی سختی ، کلورائیڈ ، فلورائیڈ ، ٹی ڈی ایس ، آئرن اور این او 2 اور بیکٹیریا سے بھرا ہوا ہے۔

پی سی آر ڈبلیو آر نے 2015 اور 16 کی رپورٹ میں پہلی بار میں پاکستان کے بڑے شہروں میں پانی کے 57 فیصد نمونے آلودہ ہونے کا انکشاف کیا تھا، تب سے لیکر اب تک سندھ اور بلوچستان میں پینے کے پانی کی کوالٹی کی صورتحال مزید گر گئی ہے جبکہ کونسل نے ملک میں 24 واٹر کوالٹی لیبارٹریز قائم کیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں پانی فروخت کرنے والے 22 برانڈز کا پانی ناقابل استعمال قرار

سرکاری اعداد و شمار بتاتے رہے کہ بہاولپور میں 76 فیصد زیر زمین پانی ، مظفر آباد میں 70 فیصد ، سکھر میں 67 فیصد ، کوئٹہ میں 63 فیصد ، فیصل آباد میں 59 فیصد ، پشاور میں 58 فیصد ، ٹنڈو الہ یار میں 57 فیصد ، خضدار میں 55 فیصد  ، ایبٹ آباد اور شیخوپورہ ، لورالائی میں 54 فیصد ، گوجرانوالہ میں 50 فیصد ، مردان میں 45 فیصد ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں 38 فیصد ، لاہور میں 31 فیصد ، مینگورہ میں 20 فیصد اور قصور میں 10 فیصد پانی آلودہ ہے۔

پی سی آر ڈبلیو آر نے ملک بھر سے 433 نمونے لیے جہاں 267 (62 فیصد) نمونے آلودہ پائے گئے۔ 166 یعنی 38 فیصد نمونے تسلی بخش پائے گئے۔ کل 103 نمونوں میں سے 88 (85٪) سندھ کے سات شہروں میں آلودہ پائے گئے۔پانی کے کل 73 نمونوں میں سے 42 (58٪) بلوچستان کے چار اضلاع میں غیر محفوظ پائے گئے۔ کے پی کے کے چار اضلاع میں کل 44 نمونوں میں سے تقریبا 20 (45 فیصد) غیر محفوظ پائے گئے۔ پنجاب کے 11 اضلاع میں کل 193 نمونوں میں سے 100 (52٪) آلودہ تھے۔ وفاقی دارالحکومت میں کل 24 نمونوں میں سے 9 یعنی (38 فیصد) آلودہ پائے گئے۔

پی سی آر ڈبلیو آر نے جے ڈبلیو سی کے بعد صوبے میں پانی کے مختلف ذرائع کے پانی کے معیار کا جائزہ لیا اور اپنے نتائج میں یہ ثابت کیا کہ کراچی میں سے 76 فیصد آلودہ پانی میں آرسینک (سنکھیا) 28 فیصد ، آئرن (36 فیصد) فلورائیڈ اور دیگر بیکٹیریا جان لیوا بیکٹیریا شامل ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں، پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے مشروبات اور بوتل بند پینے کے پانی کے کل 1،140 برانڈز میں سے 200 کو غیر معیاری پایا۔

اس سے قبل وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ پاکستان کے 29 بڑے شہروں میں 62 فیصد پانی غیر صحت بخش اور انسانی استعمال کے لیے نا مناسب ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button