سندھ بھر میں 19 اگست تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

گزشتہ روز سندھ بھر میں پیر 9 اگست سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا

کراچی: سندھ میں 19 اگست تک اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ کا صوبائی وزیر اسماعیل راہو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 19 اگست تک صوبے میں اسکول بند رہیں گے کیونکہ 7 محرم سے جلوس شروع ہوجاتے ہیں جس کے باعث بچوں کو تکلیف ہوتی ہے لیکن 10 اگست سے انٹر کے رہ جانے والے پرچے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سید سردار شاہ نے بتایا کہ اساتذہ اور اسٹاف کی ویکسین پر بھی نظر رکھی جائے گی، کوشش کریں گے کہ وفاق اور صوبے کے فیصلوں میں تضادات دور کریں۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم آج تک ریڈیو کے معجزات پڑھا رہے ہیں، ہمیں اپنے نصاب پر نظر ثانی کرنا ہو گی، اسکول کا نظام بہتر کریں تو والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکول ہی لائیں گے۔

سید سردار شاہ نے کہا کہ 8 محرم الحرام کو صورتحال پر نظرثانی کے لیے دوبارہ اجلاس بلائیں گے۔ صوبائی وزیر برائے جامعات اینڈ بورڈز اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ بورڈز امتحانات کے لیے نیا شیڈول مرتب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ امتحانات میں نقل کی اجازت نہیں ہوگی، پرچے آؤٹ ہونے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے، بورڈز بھی سرکیولر جاری کریں گے کہ سختی کی جائے گی۔

گزشتہ روز نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے حکومت سندھ کو  صوبے بھر میں کاروبار کے اوقات رات 8 بجے تک کرنے کی تجویز  پیش کی گئی تھی۔

این سی او سی اجلاس کے فیصلے

گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی میزبانی میں ہونے والے این سی او سی کے مشترکہ اجلاس میں سندھ بھر میں پیر 9 اگست سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر اسدعمر، این سی اوسی کے چیف کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان، وزیراعظم کے معاون خصوصی سی پیک خالد منصور اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سمیت اور دیگر نے شرکت کی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ کی میزبانی میں این سی او سی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی میں کورونا کیسز کی شرح میں 3 فیصد کمی آئی ہے اور شرح 21 فیصد ہوگئی ہے، ملک میں کورونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کی لہرکراچی میں زیادہ ہے ، کراچی میں اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، شرکا کو بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیرمیں کورونا عروج پر ہے جہاں شرح 26 فیصد ہے ۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کراچی اور حیدر آباد سمیت 13 شہریوں میں کورونا ایس او پیز پر سخت عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ محرم الحرام کے پیش نظر کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروانے پر زور دیا گیا ہے اور کورونا پر قابو پانے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کاروباری اوقات رات 8 بجے تک کرنے، ریسٹورنٹس میں آؤٹ ڈور ڈائننگ کھولنے اور شادی کی تقاریب کھلی جگہ پر کرنے کی اجازت دینےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پابندیوں کے باعث کورونا کے بڑھتے کیسز رک گئے، ایڈمنسٹریٹر کراچی

دوسری جانب ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی پابندیوں کے باعث صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز رک گئے ہیں اور اب ان کو کمی کی طرف لانا ہے۔

کراچی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ویکسینیشن کی جانب جانا ہوگا تاکہ اس وبا پر قابو پایا جاسکے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر سندھ میں 31 جولائی سے 8 اگست تک جزوی لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا تھا لیکن لاک ڈاؤن کے باوجود کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی نہ آسکی،کورونا کیسز کی شرح اب بھی 20 فیصد سے زائد  ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button