افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط سولھویں

کافی کا گھونٹ لے کر خلا میں گھورنے لگا جیسے خود سے پوچھ رہا تھا کیوں در بدر بھٹک رہے ہو، کس کی تلاش میں ہو، ویسے ہر ذی روح کو زندگی گزارنے کے لیئے کسی نہ کسی کی تلاش تو ہوتی ہے جو دل کی باتوں کو سمجھے، ہماری خاموشی میں چھپے ہوئے شور کو سن سکے

طارق کھجڑ

شدت سے پیاس محسوس ہو رہی تھی، چلتے ہوئے کیفے نظر آیا جہاں شیشوں کے اگلی طرف لوگ کھاتے ہوئے اور پیتے ہوئے نظر آ رہے تھے، ساتھ ہی سرگوشیوں میں بھی مصروف دیکھائی دے رہے تھے، باہر بورڈ پہ لکھا ہوا تھا لا کوسٹا کیفے، اپنا رخ بدل کر کیفے کی جانب بڑھنے لگا، اندر داخل ہوتے ہی کافی کی بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی، تازہ بسکٹس اور زنگر برگر کی مہک بھی ماجول میں محسوس ہو رہی تھی۔

کائونٹر پہ پانی اور کافی کے ساتھ چکن سینڈوچ کا آرڈر یہ تسلی کرتے ہوئے دیا کہ وہ حلال فوڈ ہے، اس کے بعد خود کو جا کے کرسی پہ گرا دیا، لگ رہا تھا جیسے صدیوں کی مسافت پیدل طے کرکے یہاں پہنچا ہوں۔

لا کوسٹا جسے دی کوسٹا بھی کہا جاتا ہے، اسکی بنیاد دو اٹالین بھائیوں برونو اور سرجیو کوسٹا نے 1971 میں ڈالی تھی۔ اٹالین طرز کا یہ شاندار کافی شاپس اپنی مخصوص خوشبو اور مہک کی وجہ سے آج بھی بہت مشہور ہیں۔ ان کی منفرد، روسٹیڈ یا بھنی ہوئی کافی نے دنیا میں بہت شہرت حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں کوسٹا کے آوٹ لیٹس (ڈسٹریبوشنس) اور ریسٹورینٹس ہیں، جسے 2019 میں کوکو کولا نے خرید لیا تھا۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں

اس وقت دنیا میں 3500 سے زیادہ ریسٹورنٹس اور 6000 ہزار سے زیادہ آوٹ لیٹس ہیں جس میں صرف برطانیہ میں 2121 اور چین میں 1،280 آؤٹ لیٹس ہیں۔

کافی کا گھونٹ لے کر خلا میں گھورنے لگا جیسے خود سے پوچھ رہا تھا کیوں در بدر بھٹک رہے ہو، کس کی تلاش میں ہو، ویسے ہر ذی روح کو زندگی گزارنے کے لیئے کسی نہ کسی کی تلاش تو ہوتی ہے جو دل کی باتوں کو سمجھے، ہماری خاموشی میں چھپے ہوئے شور کو سن سکے.

یہ کہانی آدم سے شروع ہوتی ہے۔ جس نے کسی کے ساتھ کی خاطر جنت کو ٹھکرا کر زمین کی دوزخ کو فوقیت دی، روح کی تسکین کے لیئے انسان کی یہ تلاش اب بھی جاری ہے، جنت میں سب کچھ میسر تھا مگر روح کے لیئے کوئی نہ تھا۔ یہ تلاش ہی تو ہے جو اتنی دور لے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط پندرھویں

کافی پینے کے بعد کسی حد تک ریلیکس محسوس کر رہا تھا، اپنی تلاش تو ابھی ختم ہونے والی نہیں تھی، اس لیئے کافی سے فارغ ہو کر باہر آکے ٹیکسی پکڑی اور واپس ہوٹل آگیا، اس وقت شام کے چھ بج رہے تھے، کمرے میں جا کر لیٹ گیا، نہ کپڑے بدلے نہ جوتے اتارے تھکن سے نڈهال جسم، جلد ہی نیند کے حوالے ہوگیا۔

جب آنکھ کھلی تو صبح کے پانچ بج رہے تھے، رات کو کھانا بھی نہیں کھا سکا تھا اس لیئے بھوک لگ رہی تھی۔ ریسپشن پر فون کر کے پوچھا کہ بریک فاسٹ کتنے بجے شروع ہوتی ہے، ریسپشن سے بتایا گیا کہ وہ شروع ہے جو کہ گیارہ بجے ختم ہوگا، میں نہانے چلا گیا، میری زندگی میں ایسا بہت کم ہوا ہوگا کہ نہانے یا تیار ہوئے بنا کبھی ناشتہ کیا ہو یا چائے پی ہو، مجھے نہا کر تیار ہو کے بریک فاسٹ کرنے سے کچھ زیادہ مزہ آتا ہے، اس لیئے تیار ہوکے اور بریک فاسٹ کرنے چلا گیا۔

ناشتے پر اسی نوجوان مسلم مینیجر سلیمان سے پھر ملاقات ہوئی اور میں اس سے کانگو کے بارے میں پوچھنے لگا، ساتھ پراٹھا آلو کی بھجیا بھی کھا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط چودھویں

انڈینز افریقہ میں سیاہ فاموں کو کالا کہتے ہیں۔ وہ اپنی مخصوص انڈین گلابی اردو میں بتانے لگا  کہ ان کالوں کی زمین قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر کرپشن کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کرپارہا۔ لوگ بہت غریب ہیں۔

وہ بتانے لگا کہ جب کبھی بھی باہر گھومنے جاو تو آجو باجو دیکھنا پورے کینشاسا شہر میں کہیں کسی گلی میں کتا نہیں دکھائی دےگا نہ ہی بلی نظر آئے گی۔ سارے کتے بلیاں پکڑ کھا گئے ہیں۔ حرام خور کالے، سب کچھ کھاتے ہیں، گدھے کا گوشت یا چوہے کا، سالے سب کچھ پکا کر کھا جاتے ہیں۔

میں نے ہنس کر اس کی طرف دیکھا اور اپنی پلیٹ کی طرف اشارہ کیا، تو وہ بھی ہنستے ہوئے کہنے لگا بھائی آپ ناشتہ کریں ہم اس پر پھر بات کرلیں گے، آپ کا دل خراب کرنے کا ارادہ نہیں تھا، وہ تو بات چلی تو بتا دیا، وہ پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے چل دیا۔

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کریں

جاری ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو یا انگریزی میں بلاگ، آرٹیکل، سفرنامہ وغیرہ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ Theindustribune@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button