افغان طالبان کا ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول کا دعوی

طالبان کی افغانستان پر مکمل فتح ابھی بہت دور ہے: جنرل مارک ملی

کابل: افغان طالبان نے ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول کا دعوی کیا ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جلد ہی پورے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا جائے گا۔ دوسری جانب، افغانستان میں عید کے دوسرے دن بھی صورتحال نسبتا پُر امن رہی، طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کی بندوقیں غزنی اور قندھار سمیت کئی بڑے شہروں میں تقریبا خاموش رہیں۔

دریں اثنا، امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے بدھ کو کہا ہے کہ لگتا ہے کہ طالبان کے پورے افغانستان میں اپنی زبردست کارروائیوں کی”حکمت عملی ” موجود ہے، تاہم ان کی افغانستان پر مکمل فتح ابھی بہت دور ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شدید لڑائی کےبعد طالبان قندھار میں داخل ہوگئے

نائن الیون حملوں کے نتیجے میں امریکہ نے طالبان حکومت کا تختہ الٹنے کے تقریبا 20 سال اور امریکی زیر قیادت غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد، اب تک طالبان نے افغانستان کے تقریبا 400 اضلاع میں سے نصف پر کنٹرول کیا ہے۔

دوسری طرف، روس کا کہنا ہے کہ طالبان 20 سالہ جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور وہ افغانستان کی موجودہ خانہ جنگی کے سیاسی حل کے لئے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

افغانستان میں روس کے سفیر ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ طالبان کے بیانات اور اقدامات کی وجہ سے وہ ایک "سیاسی تصفیہ” کے لئے تیار ہیں اور وہ بھی 20 سالہ طویل جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: دوحہ مذاکرات: فریقین افغانستان میں جنگ بندی پر اتفاق نہ کرسک

ضمیر کابلوف نے مزید کہا کہ طالبان امن مذاکرات کے دوران بہت مثبت دکھائی دے رہے تھے اور طالبان اس بات کے خواہش مند نظر آتے ہیں کہ انھیں سیاسی حل مکمل وضاحت اور پورے ڈھنگ سے پیش کیا جائے۔ بظاہر طالبان واضح سیاسی حل چاہتے ہیں۔

اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ افغانستان میں عدم استحکام دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ میں اضافے کا خطرہ بن سکتا ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل جاری ہے، لیکن یہ عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی، طالبان نے پاکستان، چین، ایران، تاجکستان اور ترکمانستان کے ساتھ ملحقہ افغان سرحد کے85 فیصد علاقے پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button