نائلہ بہرحال تھی ہیروئن

نائلہ کی زندگی میں پھر خاصے اتار چڑھاؤ آئے۔ میں نے ایک دفعہ بہت بعد میں ARY کے ایک پروگرام کیلئے اس کا ایک انٹرویو کیا جس میں اس نے بہت کھل کے بتایا کہ زندگی کتنی تلخ رہی ہے

عمران شروانی

ڈراموں کے علاوہ نائلہ جعفری اداکاری نہیں کرتی تھی۔ وہ جیسی تھی ویسی تھی۔ شائد اسی لئے اس سے محبت تو کی جاسکتی تھی لیکن نباہ کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں تھی۔ یہ وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جن کے ساتھ اس نے نباہ کیا۔ اس کے قریبی دوست، اس کے کچھ رشتہ دار، وغیرہ۔

اسی لئے اس کی لڑائیاں بہت ہوئیں۔ میں اس کا بہت قریبی دوست تھا اور مجھ سے بھی وہ بہت بہت لڑی۔ مگر اس کی لڑائیاں بہت سچی ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر چونکہ اس کے والد فوج میں میجر رہ چکے تھے لہٰذہ وہ فوج کے خلاف کچھ نہیں سن سکتی تھی۔ اب اگر مارشل لاء لگانے والوں کی برائی کی جائے تو وہ لڑ پڑتی تھی۔

مگر نرم دل وہ اتنی ہی تھی۔ کوئی لڑائی اس نے زیادہ عرصے نہیں چلائی۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں

میں نے اس کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔ اس زمانے میں وہ پاکستان ٹیلی وژن کے پنڈی اسٹیشن سے ہونے والے ڈراموں میں اداکاری کرتی تھی۔ پھر وہ کراچی آگئی۔ میں شوقیہ تھیٹر کرتا تھا۔ ہمارے کچھ ساتھی ٹی وی پر جانے لگے تو ان کی توسط سے ایک دن میں نائلہ کے گھر گیا۔ ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن نہایت مزے کی کافی پینے کو ملی۔ اور یہ بھی دیکھا کہ نائلہ شدید زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔قدم تو اس کے جیسے ایک جگہ ٹکتے ہی نہیں تھے۔

پھر میری اس کی ملاقات غضنفر علی کے کمبائن براڈکاسٹ میں ہوئی جہاں وہ ایک چھوٹے سا دفتر سجائے بیٹھی تھی۔ ہم نے فوراً ٹیلی فون نمبر کا تبادلہ کیا تھا اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ جو کہانیاں میرے پاس ہیں ان کو لے کر میں اس کے پاس آؤنگا اور پھر ہم غضنفر کیلئے کوئی عمدہ سا خیال تیار کر کے لے جائیں گے۔

مگر پھر میں اپنی صحافت میں زیادہ مصروف ہوگیا اور یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ اس نے صرف ہلکی سے مسکراہٹ سے شکایت کی کہ میں نے اس سے اس سلسلے میں کوئی بات بھی نہیں کی۔ لیکن پھر اس نے کہا کہ چلیں اب لے آئیں کوئی آئیڈیا لکھ کر۔

وہ بھی نہ ہوا۔

پھر اس کا ایک انٹرویو کسی ہفت روزہ میں چھپا۔ اس میں اس نے کہا تھا کہ وہ اداکارہ تو ہے لیکن ہیروئن مٹیریل نہیں۔ میں نے اس کو بالآخر فون کیا اور پوچھا کہ وہ ایسا کیوں سمجھتی ہے۔ جتنی اچھی اداکاری وہ کررہی تھی مرکزی کردار میں آسکتی تھی۔ اس نے کہا ضرور لیکن ٹی وی کی ہیروئن کیلئے جو ہمارے یہاں میعار ہے اس کا تعلق اداکاری سے نہیں۔

لیکن اس فون کال کے بعد میری اس کی دوستی سی ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیے: ڈارلنگ آف دی کراوڈ، بینظیر بھٹو

کچھ عرصے بعد 1996کے ورلڈ کپ کیلئے ہونے والے ثقافتی پروگراموں کیلئے رعنا شیخ نے مجھے بلایا۔ ایک سال پہلے میں ان کے ساتھ ایک بیلے لے کر امریکہ جاچکا تھا جو میں نے ڈائرکٹ کیا تھا اور اس میں مجھے اداکاری بھی کرنی پڑی تھی۔ تو وہاں نائلہ ان کی معاون کے طور پر تھی۔ اس کے ساتھ کام کرنے سے اندازہ ہوا کہ وہ صرف اداکارہ نہیں بلکہ ایک اچھی منتظمہ بھی ہے۔

چونکہ میں اس کی سیماب قدمی سے واقف تھا لہٰذہ میرا خیال تھا کہ وہ ٹی وی کی دوسری اداکاراؤں کے مقابلے میں تھیٹر میں بہتر کام کرسکے گی۔ 1998 میں میں فصیح باری خان کا لکھا اسٹیج ڈرامہ شرر بنارہا تھا۔ میں نے نائلہ سے کہا کہ کیا وہ اس میں اداکاری کرے گی۔ اور یہ بھی صاف بتادیا کہ ہم اس ڈرامے کو لے کر اسلام آباد قومی ڈرامہ فیسٹیول میں جائیں گے۔ آنے جانے کے اخراجات ادارہ ثقافت ادا کرے گا۔ البتہ جو پیسے بچیں گے وہ بہت تھوڑے ہونگے۔

اس نے پیسوں پر کوئی زیادہ بات نہیں کی اور حامی بھر لی۔ پھر اس نے ایک اور پیشکش کی۔ ہمیں تیاری کیلئے جگہ کا مسئلہ تھا۔ اس نے کہا کہ ہم اس کے گھر پر ریہرسل کر سکتے ہیں۔ اور جب ہم اس کے گھر جاتے تو وہ خوب اہتمام سے چائے کا بندوبست کر کے رکھتی۔ میں نے اس سے کہا بھی کہ ہمارے پاس ریہرسل کیلئے رفریشمنٹ کا بجٹ ہے لیکن وہ نہیں مانی۔

جو بات ہمیں نہیں معلوم تھی وہ یہ کہ روزانہ وہ خاص ہمارے لیے ریہرسل سے صرف چند منٹ پہلے گھر آتی تھی۔ وہ ان دنوں اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر کہیں اور رہ رہی تھی۔

اسلام آباد فیسٹیول میں ہمارے ڈرامے کی بہت تعریفیں ہوئیں تو ہماری ہمت بڑھی کہ کراچی میں بھی اسے اسٹیج کیا جائے۔ اگلے ہی مہینے، جولائی 1998، میں ہم نے فرانسیسی ثقافتی مرکز آلیانس فرانسیز میں یہ کھیل اسٹیج کیا۔ نائلہ نے بہت زبردست کام کیا۔ پہلی شام کو پردہ اٹھنے سے پہلے ہمیں پتہ چلا کہ نائلہ کی حال ہی میں طلاق ہو گئی ہے اور لہٰذہ ہم اسے نائلہ علی نہیں کہ سکتے۔ جب کھیل کے بعد اس کے تعرف کا وقت آیا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ نائلہ کا پورا نام کیا لوں۔ لیکن وقت نہیں تھا لہٰذہ صرف نائلہ کہنے سے کام چلایا۔ لیکن طے کر لیا تھا کہ اگلے دن ضرور اس سے پوچھوں گا کہ کیا نام لوں۔

اگلے دن میں پھر بھول گیا۔

لہٰذہ جب اس کے تعرف کا وقت آیا تو میں نے سوچا کہ نائلہ کے بھائی عاطف کے نام میں جعفری لگا ہوا ہے۔ لہٰذہ میں نے اسٹیج پر اس کا نام نائلہ جعفری کہا۔ نائلہ مسکرائی اور بعد میں اس نے کہا کہ یہ نام اسے پسند آیا۔
تو شادی سے پہلے اس کا نام کیا تھا؟

نائلہ ظہیر، اس نے یاد دلایا۔ اسی نام سے وہ پنڈی اسٹیشن سے ڈراموں میں حصہ لیتی رہی تھی۔مگر پھر وہ نائلہ جعفری ہوچکی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: اداکاری کا مغل اعظم، دلیپ کمار

نائلہ کی زندگی میں پھر خاصے اتار چڑھاؤ آئے۔ میں نے ایک دفعہ بہت بعد میں ARY کے ایک پروگرام کیلئے اس کا ایک انٹرویو کیا جس میں اس نے بہت کھل کے بتایا کہ زندگی کتنی تلخ رہی ہے۔ مگر پھر اس نے مجھ سے کہا کہ یہ تو میں نے تم سے بہت کچھ کہ دیا۔ اسے on air نہ کرو تو اچھا ہوگا۔

وہ ٹیپ ہم نے صاف کروادیا۔

اتنی تکلیفیں اٹھا کر نائلہ جب اپنی بیماری کے سامنے کھڑی ہوئی تو وہ کیسی ہوگی؟ اتنی مضبوطی اس میں کہاں آئی ہوگی؟ ایک حساس لڑکی کیا ایسی تھی کہ وہ اپنی اتنی موذی بیماری سے ہنستی کھیلتی لڑ لے؟

یہ قصہ شروع ہوتا ہے 8 اکتوبر 2005کے زلزلے سے۔ کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آنے والے زلزلے نے تو اسلام آباد تک کو ہلادیا تھا۔ لاہور میں بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

مگر جتنا اس نقصان کا احساس کراچی والوں کو ہوا تھا شائد کسی کو نہیں ہوا تھا۔ کراچی سے سب سے زیادہ لوگ اور مدد زلزلے متاثرین کیلئے گئی تھی۔ لوگوں نے بھاگ بھاگ کر تباہ حال لوگوں کیلئے امدادی سامان بھی اکھٹا کیا اور جا جا کر بھی ریسکو میں ہاتھ بٹایا تھا۔

نائلہ بھی انہیں میں سے ایک تھی۔ بالاکوٹ کا شہر تو اس زلزلے میں تہس نہس ہوگیا تھا۔ نائلہ جب وہاں پہنچی تو بقول اس کے کوئی شہر نہیں بچا تھا۔ صرف ملبہ تھا۔ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف بے تہاشہ کوشش کر رہے تھے لیکن صاف نظر آرہا تھا کہ ان کی کوششیں کافی نہیں تھیں۔ انہیں اور مدد کی ضرورت تھی۔ نائلہ نے فوراً اپنی خدمات پیش کیں۔
جو یکسر رد کر دی گئیں۔

بی بی آپ کو آتا کیا ہے؟ نائلہ سے پوچھا گیا۔ کیا آپ زخمیوں کی صحیح طور پٹی بھی کر سکیں گی؟ اور جو زخم کھلے ہوئے ہیں ان میں ٹانکہ لگانا؟ آگے تو معاملات زیادہ پیچیدہ تھے۔ نائلہ تو وہاں شائد کچھ بھی نہ کر پاتی۔

چھوڑیے بی بی، آپ لوگ شو بز والے، تصویریں کھنچوانے آتے ہیں، تصویریں یہاں خوبصورت نہیں بنیں گی۔ نکلیے۔
مگر نائلہ نے جو کچھ وہاں دیکھا تھا اس کے بعد اس کا دل نہیں تھا کہ وہ لوگوں کو یوں سسکتا چھوڑ کر واپس آجائے اور کہے کہ بھئی توبہ توبہ بڑی تکلیف دہ صورتحال ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط پندرھویں

جو نرس اس کو وہاں سے بھگانے پر معمور تھی نائلہ نے اسی سے پوچھا کہ کیا کوئی کام ایسانہیں کو کوئی غیر تربیت یافتہ کے کرنے کا ہو؟

ہے، اسے بتایا گیا۔ یہ جو غلیظ خون سے لتھڑی ہوئی پٹیاں زمین پر جابجا پڑی ہوئی ہیں۔ ان کو اٹھائیے۔ اس کیلئے ہمارے پاس لوگ کم ہیں۔

اب آپ لاکھ ٹی وی کے اداکارنہ ہوں مگر یہ کام تو ٓآپ بھی مان لیجئے کہ اپنے گھر پر بھی کرنا زرا مشکل ہوگا۔ اور کیا کہ روز بارہ بارہ گھنٹے یہ کام ہفتوں کرنا۔ اس سے کم تو کچھ کرنے کو تھا ہی نہیں۔

اور نائلہ لگ گئی۔ ایک معمولی کام والی کی طرح اس نے یہ کام سنبھال لیا۔ وہ ساری غلاظت سمیٹنا جو بہت ضروری تھا تاکہ جو کچھ بھی اسپتال کے نام پر وہاں قائم تھا اس میں صفائی برقرار رکھی جاسکے۔ ایک ہفتہ، دوسرا ہفتہ، تیسرا ہفتہ۔ وہ ہفتوں یہ کام کرتی رہی اور اس نے اف نہ کی۔

جب بالآخر اس کی واپسی ہوئی تو اس نے کراچی آکے اپنے دوستوں کو کچھ نہ بتایا۔ یہ تو کچھ تھے ایسے جنہوں نے مسلسل سوال کر کرکے اس سے سچ اگلوا ہی لیا۔ اور اسی لئے یہ قصہ آج آپ تک پہنچ رہا ہے۔

میرا خیال ہے کہ موت اور تکلیف کو اتنی قریب سے دیکھنے کے بعد نائلہ بالکل بدل گئی۔ حساس تو وہ پہلے بھی تھی، اب اس میں ایک مظبوطی آگئی۔وہ اب بہت کچھ برداشت کر سکتی تھی۔ زندگی کے سارے کڑوے گھونٹ میٹھے شربت کی طرح پی سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:بینظیر بھٹو کی اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات کی روداد

یہ شائد اس کی تیاری تھی ایک ایسے امتحان کی جو ابھی درپیش نہیں تھا۔ اس لئے کہ جس طرح اس نے سرطان جیسے مرض کا مقابلہ کیا وہ کوئی آسان بات نہیں۔ خوب بہادری سے لڑی لیکن پھر یہ بھی کہا کہ اس بیماری نے یہ سکھادیا کہ کون دوست ہے اور کون محض دکھاوا۔ شوبز کی دنیا سے بھی اکتا سی گئی تھی۔

ایک وقت ایسا آیا کہ اس نے طے کیا کہ سب کچھ تیاگ کر شمالی علاقہ جات میں جابسے۔ ٹرین کا ٹکٹ کٹایا اور چل پڑی۔ میں نے ایک نوجوان کو اس کے ساتھ کر دیا کہ راستے میں نہ صرف ساتھ دے بلکہ سارے سفر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ بھی کرتا جائے۔ یہ ہمارا دونوں کا منصوبہ تھا۔ ارادے بہت بنائے کہ اس فٹیج کا یہ کریں گے وہ کریں گے۔

مگر پھر تھوڑی سے صدابندی کے بعد وہ تھک سی گئی۔ اس دوران کئی ٹی وی چینلز سے بات بھی ہوئی اور انہوں نے دلچسپی بھی دکھائی کہ اس دستاویز کو وہ ہم سے خریدلیں۔ لیکن کبھی نائلہ نہ مانی اور کبھی اس کا مزید کام کرنے کا دل نہ ہوسکا۔ آخر آخر تک وہ یہ کہتی رہی کہ صرف تمہارے اور اس لڑکے کیلئے جس نے یہ سارا شوٹ کیا تھا وہ اس پراجیکٹ کو ضرور مکمل کرے گی۔ یہ اس کی محبت تھی ورنہ اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ اب شائد اتنی سکت نہ لاسکے۔
گلگت میں وہ دو سال رہی بھی لیکن پھر تکلیف بڑھی تو واپس کراچی آنا پڑا۔

ایک دن پتہ چلا کہ اس کو کیمو سے سلسلے میں خون کی دو بوتلیں چڑھنی ہیں۔ یہ گلگت جانے سے پہلے کی بات ہے۔ میں تھوڑا پریشان ہوا تو کہنے لگی لو! یہ کونسی نئی بات ہے۔ ہر بار یہی ہوتا ہے۔ دیکھو نیا خون چڑھ جائے گا تو میں کھیلتی کودگی پھرونگی۔ میں نے ضد کی کہ خون میں دونگا۔

پہلے تو وہ تیار نہیں تھی لیکن پھر مان گئی۔ میں اور میرا ایک دوست لیاقت نیشنل گئے اور آرام سے اس کیلئے خون دیا، جوس کے ڈبے پیے، اور اس سے خوب گپیں کرکے اپنے دفتر پہنچے تو تھوڑی دیر میں پتہ چلا کہ پتہ نہیں کیسے لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ نائلہ کی حالت بہت خراب ہے اور وہ موت سے لڑ رہی ہے۔ اس نے فون کیا کہ بھائی، یہ کیا کہانی ہے؟ موت سے کون لڑ رہا ہے۔ میں تو معمول کے علاج کے بعد گھر لوٹ گئی ہوں۔

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کریں

سوشل میڈیا پر دوستوں نے تصحیح کے پیغامات چلائے تو معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ پہلے تو بہت پریشان تھی کہ دنیا جہان سے لوگ پریشان ہو کر فون کر رہے ہیں۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ دیکھو یہ تو پتہ چل گیا کہ زندگی تمہاری اکارت نہیں گئی۔ تم نے اتنی محبتیں سمیٹی ہیں۔ ہنسنے لگی۔ ہر چند کہ اس وقت بھی ہنسنے سے اس کو بہت درد ہوتا تھا۔

محبتیں سمیٹنا بہت آسان کام ہے۔ یہ نائلہ کو آتا تھا۔ محبت کیے جائیے، لوگ بھی آپ سے محبت ہی کرینگے۔ نائلہ نے اسی ایک رشتے سے وفا کی۔ محبت سے۔ اداکارہ تو وہ اچھی تھی ہی (اس کے ڈراموں پر کوئی ٹی وی کا ناقد لکھے گا) لیکن سچ مچ میں وہ ہیروئن تھی۔ ایک بہادر، نڈر، بیباک، اور مخلص۔ اللہ اسے اور سکون دے۔ آمین۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button