شدید لڑائی کےبعد طالبان قندھار میں داخل ہوگئے

قندھار کے گورنر نے الزام لگایا کہ کابل میں کچھ لوگوں نے قندھار پر طالبان کے قبضے کی راہ ہموار کی

کابل: شدید جنگ کے بعد طالبان قندھار میں داخل ہوگئے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق، طالبان شدید مزاحمت کے بعد قندھار شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں، جبکہ حکومت نے قندھار میں نائٹ کرفیو نافذ کردیا ہے اور ٹیلیفون سروس مکمل طور پر معطل کردی گئی ہے۔ جبکہ قندھار جیل میں موجود طالبان قیدیوں کو افغان حکومت نے ایک اور جیل میں منتقل کردیا ہے۔

گذشتہ روز، قندھار کے گورنر نے الزام لگایا کہ کابل میں کچھ لوگوں نے قندھار پر طالبان کے قبضے کی راہ ہموار کی اور ان لوگوں کے ٹیلیفون کال پر 10 سے 12 چوکیاں خالی کردی گئیں۔ جس پر طالبان نے بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے: افغان سیکیورٹی فورسز کا مختلف شہروں کا قبضہ واپس لینے کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر طالبان نے قندھار شہر پر قبضہ کر لیا ہے لیکن لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور کابل میں بیٹھے ان لوگوں کے ناموں کو ظاہر کیا جائیگا، جو طالبان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

دوسری جانب، تخار کے صدر مقام تالقان پر قبضہ کے لئے شدید لڑائی جاری ہے، جب کہ افغان حکومت نے صوبہ پروان کے ضلع شیخ علی اور بامیان کے ضلع کمہارد کو طالبان سے آزاد کرانے اور 280 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

دریں اثنا، امریکی فوج نے تین بلیک ہاک ہیلی کاپٹر افغان افواج کے حوالے کردیئے ہیں۔ دوسری جانب، سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کا آخری اسٹاپ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: کیا کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کے معاملے پر ترکی اور طالبان میں تصادم ہوگا؟

عرب میڈیا کے مطابق، سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ امریکی انٹلیجنس کے تازہ ترین سروے کے مطابق ، افغانستان میں طالبان کی تحریک کی رفتار اور پیشرفت توقع سے زیادہ ہے۔ سی این این نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کا تیزی سے اضافہ ملک کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔

نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ، امریکی خفیہ اطلاعات نے متنبہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ افغان طالبان کی تحریک امریکی افواج کے انخلا کے فوری بعد ملک کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول سنبھال لے گی۔

سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کا دارالحکومت کابل ، طالبان کی تحریک کا آخری اسٹاپ ہوگا۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button