افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط پندرھویں

طارق کھجڑ

ایک تو شدید گرمی اور اوپر سے پیدل چلتے ہوئے میری حالت کچھ بوجھل سی ہوگئی تھی، مارکیٹ میں جتنا رش اور ہلچل تھی، اس سے کہیں زیادہ ہلچل میرے اندر چل رہی تھی، غلامی کی تاریخ پر پڑھی ہوئی ساریں کتابیں امڈ کر باہر کو آ رہی تھیں۔

سیاہ فاموں کے غلامی کی تاریخ پر بنی ہالی ووڈ کی فلمیں کسی بھیڑ کی طرح یکجا ہوکر میری سوچ کے ایوانوں پر جلوہ گر ہو رہی تھیں، مجھے لگ رہا تھا جیسے صدیوں کا ایک ھجوم اکٹھا ہوکر میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔

جمی فوکس اور لیئونارڈو کی شاہکار فلم (جنگو انچینڈ)، چویٹیل اجوفر اور براڈ پٹ کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی فلم ٹویلو ایئرس آف سلیو اس کے علاوہ مورگن فری مین اور ڈینزیئل واشنگٹن کی دے گلوری انسانی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں پر بنی وہ کہانیاں ہیں، جنہیں دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا واقعی انسان اپنے مفادات کے حصول کے لئے اس حد تک جاسکتا ہے کہ اپنے ہی جیسے انسان سے جانور سے بھی بدتر سلوک کرے۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں

مگر سیاہ فاموں کے اصل مسکن افریقہ کے مقابلے میں سندہ میں بسنے والے سیاہ فام شیدیوں کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ میں غیر انسانی سلوک، جسمانی تشدد یا جبری مشقت کی کوئی مثال نہیں ملتی، اس کی وجہ ایک تو سندہ میں صدیوں سے پلنے والے پر امن انسانی جذبات ہیں، جبکہ مسلمان ہونے کے ناطے بیغمبر کائنات کی حضرت بلال حبشی کے ساتھ رغبت اور محبت کا پس منظر بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔

اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ سرور کائنات کھانا بھی بلال حبشی کے ساتھ ایک برتن میں کھاتے تھے، لوگوں نے جب بلال کی اذان دینے پر اعتراض کیا تھا تو بلال روپڑا تھا، تب اس کے آنسوں پر خدائی جوش میں آگئی تھی اور خدا نے مطلق سحر نہ ہونے دی، تب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کو آپ کی بات نا پسند آئی ہے، اب جب تک بلال حبشی اذان نہیں دیگا تب تک صبح نهیں ہوگی۔

اس کے علاوہ فتح مکہ کے وقت کعبت اللہ میں سب سے پہلے اذان دینے کا اعزاز بھی بلال حبشی کو بخشا گیا، اسلام نے اس غلام کو وہ درجہ دیا جس کی مثال آگےکئی صدیوں تک نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط چودھویں

اس کے علاوہ کئی اور خوبصورت مثالیں ہیں، جن میں ایک حضرت علی رضہ اور اس کے غلام قمبر کی بھی ہیں جن کی وجہ سے شاید سندہ میں لوگ شیدیوں سے بہت پیار کرتے ہیں اور اسی لیئے جسمانی تشدد یا جبری مشقت کی کوئی مثال یہاں نہیں ملتی۔

بلکہ اس کے برعکس سندہ میں سیاہ فام غلاموں نے اپنی عقل، قابلیت، بہادری اور وفاداری سے عزت پائی، ھوش محمد شیدی کے باپ حیدرآباد کے حاکم میر فتح علی خان تالپور کے خدمتگار تھے، وہ میروں کی حویلی میں پل کر بڑا ہوا تھا، میروں نے اپنے غلاموں کو عزت بخشتے ہوئے انہیں قمبرانی کا خطاب دیا، جو بعد میں ان سیاہ فام سندھیوں کی ذات بن گیا۔ قمبر نامی یہ ذات یا خطاب حضرت علی کے اس حبشی غلام سے وابستہ ہے جنہیں حضرت علی نے آزاد کردیا تھا۔

سندھ کی علمی اور ادبی تاریخ میں محمد صدیق “مسافر” کا نام بہت احترام سے لیا جاتا ہے جنہوں نے سندھ کے علم و ادب میں کتنے خزانے لکھے، یا ان کے لیئے کام کیا، اسے لاڑ کا مرزا قلیچ بیگ بھی کہا جاتا ہے، وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر اور نثر نویس تھے، ان کے والد گلاب خان افریقہ کے ملک تنزانیہ کی ریاست زینزیبار سے غلام کی حیثیت سے مسقط لائے گئے تھے جہاں سے وہ ٹھٹھہ کی طرف آئے اور آخر میں انہوں نے بدین کے شہر ٹنڈو باگو میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط تیرویں

تنزیلہ قمبرانی نے بھی پاکستان کی تاریخ میں اپنی شناخت بنائی، وہ پاکستان کی پہلی افریقی نژاد اسمبلی ممبر ہیں، قمبرانی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے منتخب کیا تھا اور اب وہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ ہیں۔ ان کا تعلق شیدی برادری سے ہے، ان کے اباو اجداد کا تعلق تنزانیہ سے ہے جو نوآبادیاتی عہد کے دوران پاکستان منتقل ہوئے تھے۔

پوری دنیا کے سیاہ فام اپنا لوہا منواچکے ہیں، کچھ سیاہ فام تو افریقہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے لیئے ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں، جیسے نیلسن منڈیلا،  جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور شہری حقوق کے وکیل منڈیلا، جنہوں نے انسانی مساوات کے لئے اپنی زندگی وقف کردی اور بالآخر ان کی جدوجہد کے نتیجے میں جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کا خاتمہ ہوا۔

ان کے خدمات کے عوض ہر سال 18 جولائی کو نیلسن منڈیلا کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج اس کام نام پوری دنیا کے لیئے انسپریشن کا سبب ہے بلگہ سیاہ فاموں کے لیئے تو وہ ایک پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط بارھویں

براک حسین اوباما ایک کینین نژاد سیاہ فام تھے۔ اوباما سن 1961 میں امریکی ریاست ہوائی میں پیدا ہوئے تھے۔ جس نے 2009 میں امریکا کے 44 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور پہلے افریقی نژاد امریکی کے طور پر اس عہدے پر منتخب ہوکر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ وہ نومبر 2012 میں دوسری مرتبہ کے لئے بھی منتخب ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ میرے کچھ میرے پسندیدہ سیاہ فام افراد بھی ہیں، ان کا ذکر بھی آپ سے ضرور کرنا چاہوں گا۔ ان میں ہالی ووڈ کے صف اول کے اداکار ڈینزیل واشنگٹن ہیں،وہ ایک ایسا سیاہ فام امریکی اداکار ہے جو اپنی پرجوش اور بہترین پرفارمنس کے لئے جانا جاتا ہے۔ ڈینزیل پہلے سیاہ فام اداکار ہیں جنہوں نے اپنی لازوال اداکاری سے کئی بار آسکر ایوارڈ جیتاہے۔

اس کے علاوہ لونل رچی کی آواز کا جادو کئی دہایوں سے پوری دنیا میں گونجتا ہے، اس کے شہرہ آفاق میوزک البم ہیلو، سٹک آن یو اور لیڈی رہتی دنیا تک بھلائے نہیں جاسکتے۔

یہ بھی پڑھیے: افریقہ کہانی (سفرنامہ) قسط گیارویں

ان دوںوں کے علاوہ مائیکل جیکسن ہے، جن میوزک دنیا میں کئی سالوں تک راج کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ مائیکل نے پاپ کی دنیا میں نئے ٹرینڈس دیئے، میوزک کی دنیا کو ہی بدل کے رکھ دیا، دنیا میں جتنی شہرت اس عظیم آرٹسٹ نے پائی وہ کسی کے حصے میں نہیں آئی۔

باکسنگ میں محمد علی، مائیک ٹائیسن اسپورٹس کی دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور سیاہ فام مانے جاتے ہیں۔ اسپورٹس کی دنیا میں جتنی کامیابیاں ان کو ملی ہیں وہ کسی کے حصے میں نہیں آئیں۔

کرکٹ میں سر گیری سوبرز جس نے اوور کی چھ بالوں پر چھ چھکے لگائے اور ایک نئی تاریخ رقم کی وہ بھی سیاہ فام تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تیز ترین کرکٹ بھی سیاہ فاموں کی ایجاد ہے، ستر اور اسی کی دہائی میں کلائیو لائیڈ اور ویوین رچرڈز کی کیپٹن شپ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو کالی آندھی کہا جاتا تھا، وہ پہلا اور دوسرا ورلڈ کپ لے اڑے، ان سیاہ فاموں نے کرکٹ کی دنیا کو بدل کے رکھ دیا تھا، ان کے دو اوپنر گارڈن گرینج اور ڈسمینڈ ہینس اسی کی دہائی میں اس طرح کھیلتے تھے جس طرح آج ٹی ٹوینٹی کھیلی جاتی ہے، کوئی بالر ان کے سامنے ٹک نہیں پاتا تھا۔

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کریں

کالے بیٹسمینوں کے علاوہ ان کے تیز ترین بولرس مائیکل ھولڈنگ، دنیا کے پہلے تیز ترین بولر میلکم مارشل، لمبے ترین بالر جوئیل گارنر، اسی کی دہائی کے کرٹلی ایمبروز، کرٹنی والش جن کے آگے بڑے بڑے بیٹسمین کی ٹاگیں کانپتی تھیں۔

پاکستان کی طرف سے بھی ایک سیاہ فام قاسم عمر ٹیسٹ اور ونڈے میں نمائندگی کر چکے ہیں، کراچی نیشنل اسٹیڈیم کے ساتھ فلائی اوور بھی انہی کے نام سے منصوب کی گئی ہے۔

جاری ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو یا انگریزی میں بلاگ، آرٹیکل، سفرنامہ وغیرہ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ Theindustribune@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button