بارش اور سیلاب نے جرمنی اور بیلجئیم تباہی مچادی، 91 افراد ہلاک، سینکڑوں لاپتہ

طوفان اور غیر متوقع موسلادھار بارش سے جرمنی کے پڑوسی ممالک لکسمبرگ اور نیدرلینڈ بھی متاثر ہوئے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک: دہائیوں بعد بدترین بارش اور سیلاب نے مغربی یورپ میں تباہی مچادی ہے۔ جرمنی میں موسلا دھار بارش اور سیلاب سے کم از کم 80 افراد ہلاک اور سیکڑوں لاپتہ ہوگئے ہیں۔

بیلجیئم میں موسلا دھار بارش اور سیلاب سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جرمنی میں موجودہ سیلاب کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بدترین بتایا جارہا ہے  جبکہ امدادی ادارے لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔

متاثرہ شہری بارشوں اور سیلاب کے پانی سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔

دوسری جانب جرمن چانسلر انگیلا مارکل نے سیلاب متاثرین کی مکمل مدد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ڈر سے کہ آنے والے دنوں میں ہم صرف تباہی کی پوری حد دیکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: لندن میں طوفانی بارشوں کے باعث سڑکوں پر سیلابی صورتحال، ٹرین سروس معطل

نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیر اعظم ، آرمین لاسچٹ نے سیلاب سے متاثرہ علاقے کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے، ہمیں بار بار اس طرح کے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا ، "اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اقدامات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ریاست تک ہی محدود نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے آنے والے وقتوں میں شدید موسمی واقعات کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔بی بی سی کے مطابق جرمنی کی ریاستوں رائن لینڈ – پیالٹیٹائن اور نارتھ رائن ویسٹ فیلیا سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

طوفان اور غیر متوقع موسلادھار بارش سے جرمنی کے پڑوسی ممالک لکسمبرگ اور نیدرلینڈ بھی متاثر ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button