کیا واقعی موسمی نزلہ زکام ہمیں کورونا سے بچاسکتا ہے؟

انسانی جسم پر حملہ آور ہونے کے پہلے دو سے تین دنوں میں کورونا وائرس تیزی سے اپنی نقلیں بناتا ہے، اور اوسطاً ہر چھ گھنٹے بعد اس کی تعداد دگنی ہوجاتی ہے

ویب ڈیسک: کیا موسمی نزلہ اور زکام سے کورونا وبا سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، اس بات کا جواب امریکی سائنسدانوں نے دریافت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ موسمی نزلہ زکام کورونا سے بچنے میں مددگار بن سکتا ہے مگر کیسے، یہ جاننے کے لئے پوری خبر پڑھیے۔

ممکنہ طور پر اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ موسمی نزلہ زکام کے وائرس اور کورونا وائرس کا ’’طریقہ واردات‘‘ ایک دوسرے سے بڑی حد تک ملتا جلتا ہے۔ یعنی انسانی جسم میں موسمی نزلہ زکام کے خلاف پیدا ہونے والی مدافعت، کووِڈ 19 سے بچنے میں بھی ہماری مددگار ہوسکتی ہے۔

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جو لوگ وبائی زکام سے کچھ پہلے موسمی زکام کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں، وہ وبائی زکام میں کم مبتلا ہوتے ہیں یا پھر اس سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

لیکن کیا یہی بات کووِڈ 19 کےلیے بھی درست ہوسکتی ہے؟ یہ جاننے کےلیے امریکا میں ییل اسکول آف میڈیسن کے ایلن فاکس مین اور ان کے ساتھیوں نے اسپتال میں معائنے کی غرض سے آنے والے ایسے مریضوں کا جائزہ لیا جن میں کورونا وائرس تو موجود تھا لیکن ابھی اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے:  ملک میں کورونا ویکسین کا بحران، حکومتوں نے ہاتھ کھڑے کرلیے

تحقیق سے معلوم ہوچکا ہے کہ انسانی جسم پر حملہ آور ہونے کے پہلے دو سے تین دنوں میں کورونا وائرس تیزی سے اپنی نقلیں بناتا ہے، اور اوسطاً ہر چھ گھنٹے بعد اس کی تعداد دگنی ہوجاتی ہے؛ کیونکہ اس دوران انسان کا قدرتی مدافعتی نظام اس وائرس کو ’’پہچان‘‘ کر اس کے خلاف اپنا دفاعی ردِعمل ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔

یہی وہ دفاعی ردِعمل بھی ہے جس کے نتیجے میں انسانی جسم کے اندر کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنتی ہیں جو اس حملے کو ناکام/ غیر مؤثر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔

تاہم وہ مریض جو پہلے ہی سے موسمی زکام کا شکار تھے، ان کی اکثریت میں کورونا وائرس اپنے حملے کے ابتدائی دو سے تین دنوں میں تعداد زیادہ تیزی سے نہیں بڑھا سکا۔ نتیجتاً ایسے افراد میں کووِڈ 19 کی شدت بھی خاصی کم رہی۔

بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ موسمی زکام کی وجہ سے کورونا کا حملہ پسپا کرنے میں ان لوگوں کو خاصی مدد مل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:  کورونا کے دنوں میں دل کے روگ اور پری وینٹِوِ کارڈیولوجی

اس خیال کی تصدیق کرنے کےلیے فاکس مین اور ان کے ساتھیوں نے تجربہ گاہ میں انسانی حلق کی نالی سے علیحدہ کیے ہوئے خلیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروہ کو براہِ راست کورونا وائرس سے، جبکہ دوسرے گروہ کو پہلے موسمی زکام سے اور پھر کورونا وائرس سے متاثر کیا گیا۔

فرق واضح تھا: براہِ راست متاثر ہونے والے خلیوں میں کورونا وائرس نے اپنی تعداد بہت تیزی سے بڑھائی؛ لیکن جو خلیے پہلے ہی موسمی زکام کے وائرس سے متاثر ہوچکے تھے، ان میں ’’انٹرفیرون‘‘ کہلانے والے دفاعی پروٹین پہلے ہی موجود تھے جنہوں نے فوراً کورونا وائرس کو گھیرے میں لے لیا اور اس کی تعداد بڑھنے میں خاطر خواہ رکاوٹ ڈالی۔

’’جرنل آف ایکسپیریمنٹل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ کورونا وائرس سے بچنے کےلیے خود کو موسمی نزلے زکام میں مبتلا کرنا شروع کردیں۔

البتہ یہ ایک مثبت خبر ضرور ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمی زکام کی ’’چھوٹی برائی‘‘ کورونا وبا کی ’’بڑی برائی‘‘ سے بہتر ہی نہیں بلکہ بڑی حد تک مفید بھی ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button