ذلفی بخاری کے اچانک مستعفی ہونے کی اصل وجہ کیا ہے؟

"کسی بھی انکوائری کاسامنا کرنےکو تیار ہوں، جب تک میرا نام کلیئر نہیں ہوجاتا عہدے سے استعفیٰ دے رہاہوں"۔

سلمان احمد

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذلفی بخاری نے رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے خود کو پیش کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ذلفی بخاری نے کہا کہ کسی بھی انکوائری کاسامنا کرنےکو تیار ہوں، جب تک میرا نام کلیئر نہیں ہوجاتا عہدے سے استعفیٰ دے رہاہوں۔

ذلفی بخاری نے کہا کہ ’میرے وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا نام کسی انکوائری میں آجائے چاہے وہ صحیح ہو یا غلط، اسے اپنا نام کلیئر ہوجانے تک عوامی عہدے سے الگ ہوجانا چاہیے، لہٰذا رنگ روڈ انکوائری میں مجھ پر لگنے والے الزامات کی بناء پر میں اپنا نام کلیئر ہونے تک عہدے سے مستعفی ہوکر مثال قائم کرنا چاہتا ہوں‘۔

ذلفی بخاری نے مزید کہا کہ ’میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ رنگ روڈ یا رئیل اسٹیٹ کے کسی اور جاری منصوے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس بار انکوائری اہل شخصیات کی جانب سے ہونی چاہیے، میں اس حوالے سے جوڈیشل انکوائری کی حمایت کرتا ہوں‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں پاکستان میں ہی ہوں اور وزیراعظم اور ان کے وژن کے ساتھ کھڑا ہوں، میں نے اپنے ملک کی خدمت کیلئے بیرون ملک آرام کی زندگی قربان کی، میں کسی بھی انکوائری کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں‘۔

اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے میں مبینہ بدعنوانی کا نوٹس لیا۔

ترجمان کے مطابق چیئرمین نیب نے رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے میں مبینہ بد عنوانی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہےاور ہدایت کی کہ رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے کی بلاامتیاز، میرٹ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

خیال رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل انکوائری مکمل کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ رنگ روڈ کے اصل نقشے کو تبدیل کر دیا گیا اور اس میں مزید نئے راستے شامل کردیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان نئے راستوں کا انتخاب ان چند اہم شخصیات کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا گیا، جن کی زمینیں اس راستے پر آتی تھیں جبکہ نئے راستے شامل کرنے پرلاگت میں مزید 25 ارب روپے اضافہ ہو رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق اطلاعات ملی تھیں کہ منصوبے کی لاگت میں 25 ارب روپے اضافہ کیا گیا،کچھ بااثر سیاستدانوں اور مفادپرست گروہوں کے کہنے پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ دینے کیلئے حدبندی تبدیل کی گئی۔ 85 کلومیٹر طویل راولپنڈی رنگ روڈ کی تعمیر پر ابتدائی تخمینہ 40 ارب روپے تھا۔

راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل سامنے آنے پر کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس کے سربراہ کمشنر گلزار شاہ کے دستخط کے ساتھ رپورٹ حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔

رپورٹ میں سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود اور لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر وسیم علی تابش کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور دونوں کا کیس نیب بھجوانے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں، دونوں افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی لینڈ ایکوزیشن پر 2 ارب 30 کروڑ روپے تقسیم کیے، اتنی بڑی رقم کی ادائیگی اٹک لوپ کے رینٹ سینڈیکیٹ کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button