این اے 249 ضمنی انتخاب: کانٹے کا مقابلہ کس کس درمیان ہوگا، مکمل معلومات اور تجزیہ

تحریک انصاف کے امجد اقبال، مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل، پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل اور پاک سرزمین پارٹی کے مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم پاکستان کے حافظ محمد مرسلین مدمقابل ہیں

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 میں ضمنی الیکشن کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔

این اے 249 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔  پولنگ اسٹیشنز کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پولنگ کے باعث حلقے میں عام تعطیل ہے۔

کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے تحریک انصاف، ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پاک سر زمین پارٹی کے امیدوار میدان میں ہیں۔ تحریک انصاف کے امجد اقبال، مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل، پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل اور پاک سرزمین پارٹی کے مصطفیٰ کمال مدمقابل ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کے حافظ محمد مرسلین بھی امیدوار ہیں۔

خیال رہے کہ این اے 249 کی نشست فیصل واوڈ کے سینیٹر بننے کے باعث خالی ہوئی تھی، اس نشست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخاب کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں

اس حلقے کی آبادی 8 لاکھ کے لگ بھگ ہے جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تین لاکھ 39 ہزار 591 ہے۔ یہاں مختلف قومیتوں کے لوگ سالہا سال سے آباد ہیں، اور حلقے کی آبادی کا زیادہ تر حصہ نوکری اور مزدور پیشہ افراد پر مشتمل ہے۔ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں اس حلقے میں تین جماعتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے مابین مقابلہ ہوا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار فیصل واوڈا نے 35,349 ووٹ لے کر یہ نشست جیتی تھی جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف محض 723 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے۔ انہوں نے 34،626 ووٹ حاصل کیے تھے۔
ٹی ایل پی کے امیدوار 23 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے اس الیکشن میں تیسرے نمبر پر رہے۔

رواں سال مارچ میں جب اس حلقے سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا سینیٹر منتخب ہو کر قومی اسمبلی سے مستعفی ہو گئے تو تمام جماعتوں نے اس حلقے کے ضمنی انتخاب کو اپنے لیے ایک موقع سمجھا۔
تاہم اس ضمنی انتخاب میں مقابلہ دو جماعتوں میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ گذشتہ انتخابات میں تیسرے نمبر پر آنے والی تحریک لبیک کے اندرونی اختلافات ہیں۔

ٹی ایل پی اس حلقے میں خاصی مقبولیت اختیار کر چکی ہے اور الیکشن جیتنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہاں سے صوبائی اسمبلی کی نشست بھی ٹی ایل پی کے پاس ہے، تاہم ضمنی انتخابات میں ٹکٹ کی تقسیم پر پارٹی میں اختلاف ہوا جس کے بعد پارٹی رہنما احمد بلال قادری نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا وزیر اعظم پر اداروں کو سیاسی انجنیئرنگ کے لئے استعمال کرنے کا الزام

بلال قادری سنی تحریک کے بانی سلیم قادری کے بیٹے ہیں، اور انہیں سنی تحریک کے رہنماؤں کی سپورٹ حاصل ہے، اس لیے کچھ مبصرین کا اندازہ ہے کہ اندرونی اختلاف کی وجہ سے ٹی ایل پی کا ووٹ تقسیم ہو جائے گا۔

مسلم لیگ ن نے اس مرتبہ سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو میدان میں اتارا ہے جبکہ تحریک انصاف نے امجد آفریدی کو ان کے مدمقابل انتخاب لڑنے کے لیے منتخب کیا ہے۔92 News HD Plus on Twitter: "NA-249 by election: Nomination papers of  PML-N's Miftah Ismail approved #Miftahismail #nominationpapers  #NA245byelection https://t.co/g8Av4A9UEi… https://t.co/YEtLBPltbh"ضمنی انتخاب کے امیدواروں میں ایک اور مشہور نام پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا ہے۔ ان کی جماعت پی ایس پی جنرل الیکشنز میں کوئی بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی تھی، تاہم ضمنی انتخاب میں وہ بہتر کارکردگی کے لیے پُرامید ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی حتمی فہرست کے مطابق اس ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 30 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تحریر حسن نثار: لالچ کے بھنور میں پھنسی زندہ لاش قوم

ضمنی انتخاب میں تحریک لبیک کے امیدوار نذیر احمد پارٹی نشان کرین پر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ وفاقی وزارت داخلہ ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ اس حوالے سے ای سی پی نے وضاحت کی ہے کہ ’اسے تحریری طور پر اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا، اور کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے لیے باضابطہ کارروائی کی جاتی ہے اور وہ تب ہی ہوگی اگر وزارت داخلہ اس حوالے سے کوئی ہدایت کرے۔

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار امجد آفریدی کو کرکٹ بیٹ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل کو ٹائیگر اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار قادر خان مندوخیل کو تیر کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے امیدوار مصطفیٰ کمال کو ڈولفن جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار محمد مرسلین کو پتنگ کا نشان دیا گیا ہے۔MQM confirms Mustafa Kamal was asked to quit Senate - Pakistan - DAWN.COMعوامی نیشنل پارٹی اور جی یو آئی کے امیدواران مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں جس کے بعد مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے کیونکہ حلقے کی پشتون آبادی مفتاح اسماعیل کی حمایت کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: نواز شریف بہت بدل گیا ہے

ضمنی انتخاب رمضان میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو درخواست دی گئی تھی کہ پولنگ کو ملتوی کیا جائے کیونکہ روزے سے ہونے کی وجہ سے ووٹرز کم تعداد میں نکلیں گے۔ تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔

کراچی کے علاقے بلدیہ پر مشتمل یہ حلقہ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اعجاز شفیع کا گڑھ رہا ہے اور وہ 90 کی دہائی میں یہاں سے دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ جب شریف خاندان سے پہلی مرتبہ کسی نے کراچی سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو بلدیہ کے اس حلقے کا انتخاب ہوا۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل اپنی کامیابی کے لیے پر امید ہیں۔ دیگر جماعتوں نے بھی اپنی انتخابی مہم بھرپور طریقے سے چلائی ہے اور اپنی کامیابی کے لیے پُرامید نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف صوبائی محکمہ صحت کے مطابق اس علاقے میں کورونا سے متاثر ہونے کی شرح 6 فیصد ہے۔ کراچی کے ضلع غربی جس میں بلدیہ ٹاؤن واقع ہے، میں پچھلے ایک ہفتے میں 6 ہزار لوگوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا جب کہ ضلع میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ تاہم ضمنی انتخاب کی الیکشن مہم کے دوران کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیاں عروج پر رہیں اور الیکشن کے دن بھی یہی صورت حال دہرائے جانے کا اندیشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: انقلاب یا تبدیلی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی عمل کے حوالے سے ضابطہ کار جاری کرتے ہوئے کورونا ایس او پیز پر عمل داری کی خاص تاکید کی ہے. ای سی پی نے پریذائیڈنگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ ’انتخابی مواد کی وصولی سے لے کر پولنگ سٹیشن کے اندر بھی سماجی فاصلے کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کورونا ایس او پیز کی وجہ سے پولنگ کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اگر کسی ووٹر کے پاس ماسک نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کا عملہ اور ضلعی انتظامیہ فراہم کرے گی۔

ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے الیکشن کمیشن کے عملے نے حلقے میں انتخاب کی تیاری مکمل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 276 پولنگ سٹیشن قائم کیے ہیں۔ مردوں کے لیے 76 اور خواتین کے لیے 61 پولنگ سٹیشن ہیں، جبکہ مشترکہ پولنگ سٹیشن کی تعداد 139 ہے۔

حلقے کے 92 پولنگ سٹیشنز کو حساس جبکہ 184 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں سیکیورٹی کے لیے پولیس کے 2,800 اہلکار اور رینجرز کے 1,100 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

این اے 249 میں ووٹرز کی ترجیحات کیا ہیں ؟

کراچی کے حلقے این اے 249 میں کروائےگئے 2 سرویز میں ن لیگ کو ووٹرز نے ترقیاتی کاموں اور مہنگائی کے خلاف اقدامات کے باعث ووٹ دینےکے لیے پسند کرنےکا کہا جب کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی وجہ پارٹی کے اچھا ہونے اور ملکی حالات کو بہتر کرنا بتایا.اس بات کا پتہ گیلپ پاکستان اور پلس کنسلٹنٹ کے سروے سے چلا ہے جس میں حلقہ این اے 249کےمجموعی طورپر 26 سو سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے حصہ لیا ، دونوں سرویز 10 اپریل سے 20 اپریل 2021 کے درمیان کیےگئے۔

گیلپ پاکستان کے سروے میں حلقہ این اے 249 کے ووٹرز کی پہلی پسند پاکستا ن مسلم لیگ ن کوحلقے کے 38 فیصد ووٹرز نے ترقیاتی کام کروانےکے باعث اسے دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں ووٹ دینے کےلیے پہلی ترجیح دینےکا کہا ۔

35 فیصد نے پارٹی کے اچھا ہونے، 34فیصدنے پارٹی کی جانب سے غریبوں کی مدد کرنے ، 29 فیصد نے پارٹی کی جانب سے دہشت گردی کوکنٹرول کرنے ، 23 فیصد نے ن لیگ کے لیڈر پسند ہونے،21 فیصد نے پارٹی کے نظریے کو پسند کرنے،16فیصد نے ہمیشہ ن لیگ کو ووٹ دینے، 15 فیصد نے پارٹی کی جانب سے گیس اور بجلی کے مسائل حل کرنے جب کہ 15 فیصد نے پارٹی کے قابل اعتبار ہونے کو ووٹ دینےکےلیے منتخب کرنے کی اہم وجہ کہا۔

یہ بھی پڑھیے: توہین رسالتؐ کیسے روکی جائے؟

13 فیصد نے کرپشن کنٹرول کرنے ، 9 فیصد نے فیملی کی جانب سے ہمیشہ ووٹ کرنے اور ہم زبان ہونے،4 فیصد نے پارٹی کے مذہبی ہونے اور 1 فیصد نے مہنگائی کے خلاف اقدامات کے باعث ن لیگ کوووٹ دینے کےلیے منتخب کرنےکا کہا۔

پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں اپنے آپ کو ن لیگ کا ووٹر بتانے والوں میں 33فیصد نے پارٹی کی جانب سے مہنگائی کنٹرول کرنے کے باعث اسے دوسری جماعتوں پر ترجیح دینے کا کہا.22 فیصد نے پارٹی کی جانب سے پہلے کام کرنےکے تجربے، 7فیصد نے روزگار دینے، 6 فیصد نے اچھاکام کرنے، 6 فیصد نے پارٹی کو پسند کرنے ، 5 فیصد نے لیڈر پسند ہونے، 3 فیصد نے ملک کے حالات بہتربنانے، 2 فیصد نے مسائل حل کرنے ، اور 2 فیصد نے مستقبل میں بہتر ی کےلیے ن لیگ کو ووٹ دینے کےلیے چننے کا کہا۔

گیلپ پاکستا ن کے سروے میں اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا ووٹر کہنے والوں کی ترجیحات کو دیکھا جائے تو 35 فیصد نے پارٹی کے اچھا ہونے کو ووٹ دینے کی اہم ترجیحات میں شمار کیا ۔

یہ بھی پڑھیے: یہ ایک آئینہ ہے، اس میں اپنا اصل چہرا دیکھئے!!!

34 فیصد نے لیڈران کے اچھا ہونے،31 فیصد نے پارٹی کے قابل اعتبار ہونے ، 26 فیصد نے پارٹی کے نظریے، 26 فیصد نے پارٹی کے کرپشن کے خلاف اقدامات جب کہ 26 فیصد نے پارٹی کی جانب سے ترقیاتی کام کروانے کے باعث اسے ووٹ دینے کے لیے دوسری پارٹیوں پر ترجیح دینے کا کہا۔

25 فیصد نے پارٹی کی جانب سے غریبوں کی مدد کرنے ، 19 فیصد نے پی ٹی آئی کو ایک موقع دینے، 15 فیصد نے پارٹی کی جانب سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے اور کمی لانے ،11 فیصد نے فیملی کی سپورٹ اور ہم زبان ہونے ،9 فیصد نے ہمیشہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے ، 8 فیصدنے برادری کی پارٹی کو سپورٹ کرنے، 6فیصدنے پی ٹی آئی کے مذہبی جماعت ہونے تو5 فیصد نے گیس اور بجلی کے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے باعث پی ٹی آئی کو دوسری پارٹیوں پر ووٹ دینے کےلیے ترجیح دینے کا کہا۔

پلس کنسلٹنٹ کے سروے حلقے میں پی ٹی آئی ووٹرز کی پہلی پسند ہے، پارٹی کو ووٹ دینے کےلیے حلقے کے عوام کی ترجیحات کو دیکھا جائے تو 22 فیصدنےملک کے حالات بہتر کرنے پر پی ٹی آئی کو ووٹ دینےکےلیے اپنی پہلی ترجیح کہا۔20فیصد نے مزید بہتری لانے، 16فیصدنے پارٹی لیڈر پسند ہونے، 12فیصد نے پارٹی پسند ہونے، 10 فیصد نے مستقبل میں بہتری کی امید ،8 فیصدنے کرپشن کیخلاف اقدامات ، 8 فیصد نے ملک کےلیے پارٹی کےکام ، 6 فیصد نے پارٹی کے چوروں کیخلاف ہونے، 6 فیصدنے پارٹی کی جانب سے تبدیلی لانے کی امید، اور4 فیصد نے احساس پروگرام کے باعث پی ٹی آئی کو دوسری پارٹیوں پر ووٹ دینے کےلیے ترجیح دینے کا کہا۔

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کریں

پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں ووٹرز کی دوسری پسند پی ایس پی کو ووٹ دینے کی ترجیحات کے سوال پر 44 فیصد نے پارٹی کی جانب سے ماضی میں کروائے گئے کاموں کو وجہ بتاتے ہوئے ووٹ دینے کےلیے دوسری پارٹیوں پر ترجیح دینے کا کہا۔

18فیصد نے بہتری کی امید ،جب کہ 11فیصدنے کراچی کے مسائل کے بارے میں آگاہی ہونے کو پلس پوائنٹ بتاتے ہوئے اسے دوسری پارٹی پر ووٹ دینےکےلیے فوقیت دینے کا کہا۔

9 فیصد نے پارٹی پر اعتبار ہونے، 8 فیصدنے ماضی میں اچھا کام کرنے، 7 فیصد نے مسائل حل کرنے، 6 فیصد نے پارٹی رہنما پسند ہونے، 5 فیصدنے پارٹی پسند ہونے جب کہ 5 فیصد نےہی نئی پارٹی ہونے کے باعث پی ایس پی کو ووٹ دینے کے لیے ترجیح دینے کا کہا۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button