عدالت کا بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

حمیزہ مختارامی لڑکی نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف جنسی زیادتی، تشدد اور بھتہ خوری کے سنگین الزامات عائد کئے ہوئے ہیں

لاہور: عدالت نے ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ کیس میں ایف آئی اے کو قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

لاہور کی ایڈیشنل سیشن عدالت کے جج حامد حسین نے قومی کرکٹر کے خلاف بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے کے الزام میں ایف آئی اے میں مقدمہ کے اندراج کی درخواست کی سماعت کی۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں

عدالت نے فریقین کی سماعت کے بعد ایف آئی اے کو قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مدعی حمیزہ مختار نےانکے موبائل فون پر دھمکی دینے، انہیں بلیک میل کرنے اور فحش پیغامات بھیجنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے سائبر کرائم نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ رپورٹ کے مطابق ، بابر اعظم کو اس معاملے میں قصوروار پایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بابر اعظم پر الزامات عائد کرنے والی عورت پر مبینہ حملہ

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فراہم کردہ نمبرز پر مریم احمد، محمد بابر اور سلیمی بی بی کے نام درج تھے۔ سلیمی بی بی نے تین نوٹس موصول ہونے کے باوجود اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔

مریم احمد انکوائری میں شامل ہیں لیکن انہوں نے مدعی کو پہچاننے اور کسی قسم کے پیغامات بھیجنے سے انکار کیا ہے، مریم احمد سےکہا گیا تھا کہ وہ اپنا موبائل فرانزک کے لئے پیش کریں جو انہوں نے نہیں دیا۔

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کریں

اس کے علاوہ بابر اعظم بھی انکوائری میں شامل نہیں ہوئے۔ اس کا بھائی فیصل اعظم بابر اعظم کی جگہ حاضر ہوا اور بابر کی پیشی کے لئے مہلت طلب کی۔ بابر اعظم ابھی تک انکوائری میں شامل نہیں ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔

واضح رہے کہ حمیزہ مختارامی لڑکی نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف جنسی زیادتی، تشدد اور بھتہ خوری کے سنگین الزامات عائد کئے ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button